نواب آف گڑھ مہاراجہ
اور سیاسی جدوجہد!
تحریر مصطفی علی قریشی
ضلع جھنگ کی معروف سیال فیملی جو قیام پاکستان سے قبل سیاسی وجود رکھتی تھی ایک طویل عرصہ سے ضلع جھنگ میں اپنا اثر و رسوخ رکھتی ہے اسی سیال خاندان کے چشم و چراغ نواب آف گڑھ مہاراجہ امیدوار براے قومی اسمبلی حلقہ 110 خان محمد نوازش علی خان سیال اس وقت تخت گڑھ مہاراجہ کے وارث ہیں اور آباواجداد کی طرح عوامی خدمت خلق کے مشن کو آگے لے کر چل رہے ہیں اس سے پہلے ان کے بڑے بھائی سابق ایم پی اے محمد عون عباس خان سیال (مرحوم) کے کندھوں پر یہ ذمہ داری تھی لیکن انکی عین جوانی میں وفات کے بعد اب مکمل ذمہ داری نواب محمد نوازش علی خان سیال کے کندھوں پر ہے نواب عون عباس خان سیال (مرحوم) نے مختصر لیکن بہت اچھا وقت گزرا جو تاقیامت یاد رکھا جاے گا اس وقت وہ علاقائی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں تحصیل بھر میں انکے چاہنے والوں کی اکثریت موجود ہے اور اچھا خاصا ووٹ بنک رکھتے ہیں اگر انکی سیاسی جدوجہد کی بات کی جاے تو وہ روزبروز اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں ڈیرے پر ہر وقت ووٹرز سپوٹرز کا رش لگا رہتا ہے یہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ عوام کے مسائل کا حل نواب صاحب کی اولین ترجیح ہے اس وقت وہ حلقہ این 110 سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں سیال اتحاد کے بعد انھوں نے دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوے بطور امیدوار براے ایم این اے لڑنے کا فیصلہ کیا جو قابل تحسین ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواب آف گڑھ مہاراجہ اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاہیں گے جہاں تک میرا خیال ہے نواب صاحب بہت سمجھدار سیاستدان ہیں جو علاقائی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں سیاسی بصیرت انکو وارثت میں ملی ہے اگر گزشتہ الیکشن کی بات کی جاے تو تب صورتحال مختلف تھی ایک تو سیال خاندان دو گروپس میں تقسیم تھا اور عوام کے پاس این اے 110 میں Limited Choice تھی تو لوگوں نے مجبورا صاحبزادگان کی ناقص کارکردگی کے باوجود انھیں ووٹ دیا لیکن اب عوام کے پاس Choice ہے انھیں نواب صاحب کی صورت میں ایک بہترین امیدوار مل گیا ہے
نواب محمد نوازش علی خان سیال اپنے مخالفین کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور وہ اتنی قابلیت بھی رکھتے ہیں کہ مخالفین کو سیاسی طور پر کمزور کر سکیں اگر انھوں نے اسی طرح کوشش جاری رکھی تو وہ دن دور نہیں جب کامیابی انکا مقدر بنے گی ابھی کافی وقت ہے وہ آہستہ آہستہ ووٹرز سپوٹرز کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنا رہے ہیں کیونکہ عوامی سیاست آپکی جیت میں بہت کردار ادا کرتی ہے اگر آپ نیک نیتی سے خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہو کر کام کریں گے کامیابی آپ کا مقدر بنے گی عوام کو ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ہمیشہ اپنے حلقہ میں موجود رہے ووٹرز،سپوٹرز کی غمی خوشی میں شرکت کرے تاکہ حلقہ کی عوام کی حوصلہ افزائی ہو ناکہ ایسے لیڈر چاہیے جو عمران خان کے نام کو کیش کروا کر ووٹ تو حاصل کر لیں لیکن پارٹی اور حلقہ دونوں سے دور رہیں ایک حقیقی لیڈر ہر خاص و عام امیر و غریب کی غمی خوشی میں شرکت کرتا ہے اور علاقائی مسائل کی نشاندہی اور ان مسائل کے حل کے کیے ہمیشہ کوشش کرتا رہے تاکہ عوامی رابطہ مہم جاری رہے نواب محمد نوازش علی خان سیال علاقے کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ابھی انکے پاس خود کو سیاسی طور پر مضبوط کرنے کے لیے بہت وقت ہے وہ اسی طرح انتھک محنت جاری رکھیں تاکہ الیکشن ڈے پر حیرت انگیز نتائج موصول ہوں ۔۔۔۔۔
تحریر: مصطفی علی قریشی
تجزیہ کار،کالم نگار
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ









