صاحبزادہ غالب سلطان کی معنی خیز مسکراہٹ اور مستقبل کا سیاسی منظر نامہ

تحریر علی امجد چوہدری

ایم این اے ہاؤس میں صاحبزادہ غالب سلطان کی غیر معمولی محبت کی وجہ سے آنا جانا رہتا ہے مگر جب بھی ضاحبزادہ غالب سلطان کی رہائش گاہ پر گیا کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہاں عوام کا جھرمٹ دیکھنے کو نہ ملا ہو عوام اپنے مختلف مسائل کے حل کے حوالے سے صاحبزادہ غالب سلطان اور صاحبزادہ ساجد سلطان کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں یہ انتہائی حیران کن ہے کیونکہ سابق ایم این اے مرحوم طاہر سلطان کے بعد یہ خاندان عملی سیاست سے ابھی دور ہے عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے یہ خاندان دور نہیں ہے مگر practically politics کے حوالے سے پراسرار طور پر خاموش ہے جب بھی MNA ہاؤس جانا ہوا کبھی کھانے تو کبھی چائے کی میز پر میں نے صاحبزادہ غالب سلطان کو اس حوالے سے کریدنے کی کوشش کی مگر میری تمام تر کوشش ناکام ہوئی اور اس کا جواب ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ ملا مگر اس معنی خیز مسکراہٹ کے پس منظر میں مجھے بہت سارے راز دکھائی دیئے
لندن میں مقیم میرے ایک انتہائی قریبی دوست ان رازوں سے جزوی حد تک واقف ہیں اور اس دوست کے مطابق صاحبزادہ غالب سلطان کے صاحبزادے اور صاحبزادہ طاہر سلطان کے متوقع سیاسی جانشین صاحبزاہ سلطان دوست محمد پاکستان کی ایگزیکٹو کے key holders کے اتنے قریب ہو چکے ہیں کہ اگر یہ راز افشاء ہو جائے تو جھنگ کی سیاست میں ایک بھونچال کی کیفیت برپا ہو جائے اگرچہ صاحبزادہ طاہر سلطان گروپ بظاہر اس حوالے سے خاموش ہے مگر یہاں بھی ایک انتہائی بہترین حکمت عملی ہے کہ politics میں ایک ایسی تیاری کے ساتھ اترا جائے کہ پھر کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکے باالکل اسی طرح جیسے مرحوم صاحبزادہ طاہر سلطان نے 1997 میں کیا تھا صاحبزادہ غالب سلطان کچھ لب کشائی کریں یا نہ کریں مگر ان کی معنی خیز مسکراہٹ کسی سیاسی طوفان کا پیش خیمہ دکھائی دے رہی ہے

علی امجد چوہدری