شام کی عبوری حکومت کےلیے چیلنجز

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

شام میں اسدحکومت کا تختہ الٹنے کے بعد عبوری حکومت قائم ہو گئی ہےاور نئے صدر احمدالشرع نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔شام کئی دہائیوں سےافرا تفری اور انتشار کا شکار تھا اورتیرہ سال تو خصوصی طور پر خانہ جنگی میں گزرے۔بیرونی مداخلت نےشام کو حالت جنگ میں رکھا.بیرونی مداخلت اور خانہ جنگی سے وسیع انسانی آبادی متاثر ہوئی،تقریباڈیڑھ کروڑ کے قریب افرادشدید متاثر ہوئےہیں۔ایران اور روس کی خواہش تھی کہ اسد حکومت برقرار رہے،اسی لیےان ممالک کی طرف سے اسد حکومت کو امداد بھی ملتی رہی۔کچھ بیرونی طاقتوں کی خواہش تھی کہ اسد حکومت کا خاتمہ ہو جائے۔تیرہ، چودہ سال قبل حالات بے قابو ہونا شروع ہوئےاور مسلسل بے قابو ہوتے رہے۔اسد حکومت کی ظالمانہ پالیسیاں عوام کے لیےمشکلات میں اضافہ کرتی رہیں۔انسان قتل ہوتے رہے،گھر اجڑتے رہےاور انتشار قابو میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا،آخر کار اسد حکومت کا خاتمہ ہوا اورنام نہاد حکمران بشار الاسد بیرون ملک فرار ہو گیا۔اسد حکومت کے خاتمے کے بعد عوامی اصلاحات کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں اورتوقع بن گئی ہے کہ شامی عوام سکھ کا سانس لے سکے گی۔عبوری صدر نےاعلان کیا ہےکہ وہ ایک جامع حکومت اور مضبوط ریاستی ادارے بنائیں گے۔اس بات کا اظہار بھی کیا کہ نیا آئین بنایا جائے گا۔حقیقی انصاف کی طرف بڑھنے کا ذکر بھی کیا اور انتخابات کی طرف بڑھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔انتخابات کے ذریعےنئی حکومت کا انتخاب کیا جائے گا جو کہ بہترین حکومت ثابت ہو سکتی ہے۔شام کو عالمی دھارے میں شامل ہونے کے لیےکئی برس لگ سکتے ہیں۔نیا آئین بنانے کا مسئلہ بھی اہمیت کاحامل ہو گا۔اس بات کا امکان بھی ہے کہ حالات مزید بگڑ جائیں۔فرقہ وارانہ اختلافات بھی خانہ جنگی کی طرف شام کو دوبارہ دھکیل سکتے ہیں۔اس کے علاوہ شام کی دولت بھی انتشارمیں مبتلاکر سکتی ہے جو تیل اور گیس کے ذخائر کی صورت میں موجود ہے۔شام میں تیل کے وسیع ذخیرےموجود ہیں اور یہ ذخیرے بین الاقوامی طاقتوں کے لیےکشش کا باعث بنےہوئے ہیں۔شام میں نئی عبوری حکومت ان مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے جوتیرہ سالہ خون ریز خانہ جنگی کے بعدپیش آرہے ہیں۔امن و امان قائم کرنا موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا اور اس حکومت کی پہلی ترجیح یہی ہوگی کہ امن و امان بحال ہو جائے۔بد امنی مزید مشکلات پیدا کرےگی۔مختلف الخیال افکار کےحامل افراد کو ایک پیج پر لانا بہت ہی مشکل ہوگا۔طاقتور دھڑےالشرع حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار بھی کر سکتے ہیں اورالشرع حکومت کے خلاف بھی بغاوت اٹھ سکتی ہے۔احمد الشرع مسلسل کوشش کریں گے کہ حالات قابو میں آجائیں۔اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہےکہ انتخابات کے لیے چار برس کا عرصہ درکار ہوگا۔اس دورانیے میں موجودہ عبوری حکومت کو وسیع دشواریاں پیش آئیں گی۔ملک میں اقلیتیں بھی الشرع حکومت کے لیےمشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔داعش بھی مداخلت کر کےامن و امان کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔بیرونی امداد کی بھی شدید ضرورت ہوگی اور یہ بیرونی امداد بہت سی شرائط کے ساتھ آئے گی اور ان شرائط کو پورا کرنا مشکلات میں اضافے کا سبب ہوگا۔
شام میں حالات پر مکمل کنٹرول پانے کے لیےشدید جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔اسد حکومت نےوسائل کا رخ اپنی طرف موڑے رکھا اور عوام غربت اور بے بسی کی زندگی گزارتی رہی۔خانہ جنگی نےشام کی صورتحال تبدیل کر کے رکھ دی ہے۔اب تعمیر نو کے لیے وسیع سرمائے کی ضرورت ہوگی۔اس کے علاوہ پناہ گزینوں کی واپسی اوران کی بحالی،فوج کی تشکیل کے علاوہ سرکاری اور عوامی رہائش گاہوں کی تعمیر نو اوربدتر معیشت کی بحالی جیسے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔فوج کومسلح کرنا بھی خاصا دشوار ہوگا،کیونکہ شام کے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ فوج کو جدید اسلحہ سے لیس کیا جائےکیونکہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں سےشام کو نپٹنا ہوگا۔انتظامی امور بھی خاصی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔سیکیورٹی اور انتظامی امور پر بہترین افراد کا انتخاب بہت ہی مشکل ہوگا کیونکہ ابھی تک دوست اور دشمن کی پہچان مشکل ہوگی۔کہا جا سکتا ہے کہ شام کی تعمیر نو کے لیےوسیع سرمایہ کی ضرورت ہوگی اور یہ سرمایہ قرض کے ذریعے بھی حاصل ہوگا اورتیل اورگیس کی فروخت کر کے بھی اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔کرپشن جیسے ناسورپرقابو پانے کے لیے بھی سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔اسد حکومت نے رشوت کا بازار بھی گرم کر رکھا تھا۔انکشاف ہوا ہے کہ اسدحکومت نے چار لاکھ بوگس ملازمین کا اندراج کیاہوا تھااورملازمین کے نام پر لوٹ مار کی جا رہی تھی۔سرکاری کمپنیوں کے نام پر بھی چوری کی جا رہی تھی اور دیگر ذریعے بھی کرپشن کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔جس طرح احمد الشرع نےمضبوط ریاستی ادارے بنانے کا اعلان کیا ہے،ان اداروں کو کرپشن سے پاک کرنا ہوگا تب ہی مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔سخت قسم کےقوانین کا نفاذ ہی اداروں کو مضبوط کر سکتا ہے۔سیاسی عدم استحکام اور عدم میرٹ شام کی ترقی کے آگے رکاوٹیں پیدا کر سکتے ہیں،اگر سیاسی استحکام اور میرٹ کا نظام قائم ہو گیا تو شام اپنے آپ کو عالمی دھارے میں شامل کر سکتا ہے۔
شام کو آگے بڑھنے کے لیےمضبوط معاشی نظام کی ضرورت ہوگی۔شام کی نصف آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔اگر معاشی نظام بہتر نہ بنایا گیا تو دوبارہ حالات خانہ جنگی کی طرف جا سکتے ہیں۔پونے دو کروڑ کے قریب افراد کو انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ایک کروڑ سے زائد افراد بے گھری کا سامنا کر رہے ہیں اوردیگر ضروریات زندگی کی بھی بہت کمی ہے۔معاشی خوشحالی اور امن و امان کی بہتر صورتحال شام کے لیےاز حد ضروری ہے۔شام اگر بد امنی کا شکار رہاتو ارد گرد کے پڑوسی ممالک بھی بد امنی کا شکار ہوتے رہیں گے۔شام میں اگر مکمل استحکام آجاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات لبنان،اردن اور دیگر ممالک پر بھی پڑیں گے۔شام کو بجلی کی بھی ضرورت ہے،کیونکہ بجلی اہم ضروریات میں شامل ہےاور فوری طور پر شام بجلی پیدا نہیں کر سکتا۔ترکی نے بجلی مہیا کرنے کی پیشکش کی ہے۔اس پیش کش سے شام کوفوری طور پر فائدہ اٹھانا چاہیے۔شام بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں بھی ہے۔یورپی یونین نےاعلان کیا ہے کہ اگر نئے عبوری صدر اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع حکومت سازی کا عمل شروع کریں تو شام پرعائد پابندیاں بتدریج ختم کی جا سکتی ہیں۔اقلیتوں کا تحفظ اور ان کے جائزمسائل کا حل ویسے بھی ضروری ہےاوریقینا نئے صدر ان مسائل پر بھی خصوصی توجہ دیں گے۔شام کی نئی حکومت کے لیےبہت سے مسائل موجود ہیں۔بیرونی طاقتوں کی ناجائز مداخلت سےشام کو بچانا اور اندرونی خانہ جنگی پر کنٹرول کرنا مشکل ہوگا لیکن جدوجہد سےان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔بیرونی تجارت کو بھی دیکھنا ہوگا اور شام کی تعمیر نو بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔نیا آئین بنانا اور اس کا نفاذ بھی بہت بڑے چیلنجز میں شامل ہے۔ہمسایہ ریاستوں کو بھی چاہیےکہ شام کی بحالی میں خصوصی مددکریں تاکہ ان کی اپنی سلامتی بھی قائم رہے۔شام ایک اسلامی ریاست ہے،اس لیے اسلامی ریاستیں زیادہ مدد کریں۔بطور مسلمان دوسرے مسلمان کی مدد کرنا اسلامی لحاظ سےخصوصی اہمیت کا حامل ہے۔