نئے ایندھن کی دریافت “گرین ہائیڈروجن”
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
جرمنی اور سعودی عرب کے درمیان گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئےہیں۔سعودی عرب 2030 تک دو لاکھ ٹن گرین ہائیڈروجن یورپ کو برآمد کرے گا۔دنیا بھر میں ایندھن کے متبادل ذرائع پر کام شروع ہو چکا ہے۔نئی دریافت گرین ہائیڈروجن حیاتاتی ایندھن کی جگہ پر کر رہی ہے۔حیاتاتی ایندھن(کوئلہ،تیل)انسانیت کے لیے فائدہ مند بھی ہے اور نقصان دہ بھی۔اس ایندھن کے استعمال سےماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔گرین ہائیڈروجن ماحول دوست توانائی ہےاور اس کو بہترین ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کےمنصوبے بنائے جا رہے ہیں۔یہ توانائی مستقبل میں تیل وغیرہ کی طلب کو ختم کر سکتی ہے۔یہ کاربن گیسوں کے اخراج سے پاک بننے والا ایندھن ہے اور اس کو پانی کے ذریعے قابل تجدید بجلی سے ہائیڈروجن کے مالیکیولوں میں سے آکسیجن کو علیحدہ کر کے حاصل کیا جائے گا۔برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک ہائیڈروجن سے تیار کی گئی بجلی کو پہلے ہی ٹرینوں کو چلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔برطانیہ اس بات کا امکان ظاہر کر چکا ہے کہ 2030 تک پٹرول اور ڈیزل والی گاڑیوں پر پابندیاں لگا دےگا۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ 2030 سے پہلے ہی یہ پابندیاں لگا دی جائیں یا 2040 تک تو لازما پابندیاں لگ جائیں گی۔دیگر ممالک بھی اس قسم کے اقدامات کر سکتے ہیں جس سےڈیزل یا تیل کی ضرورت ہی ختم ہو جائے۔تیل سپلائی کرنے والے ممالک بہت بری طرح متاثر ہوں گےاور ان کی معیشتیں بری طرح تباہ ہو سکتی ہیں۔سعودی عرب نئے منصوبہ پر سرمایہ کاری کر رہا ہے،اس کی یہ پیش بندی مستقبل میں سعودی عرب کے لیے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہوگی۔جو ممالک صرف تیل پرانحصار کر کےنئے منصوبوں کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے وہ پسماندگی کا شکار ہو جائیں گے۔سعودی عرب میں کئی برس پہلےاس جیسے منصوبوں پر عمل شروع ہو چکا ہے۔جو ممالک روایتی ایندھن کے حصول میں مشکلات کا شکار ہیں،وہ گرین ہائیڈروجن یا اس جیسا کوئی اور منصوبہ شروع کر سکتے ہیں،جس سے وہ توانائی کوآسانی سےحاصل کرسکیں۔دنیابھرمیں گرین ہائیڈروجن کےمنصوبے میں اس لیے بھی دلچسپی لی جا رہی ہے کہ یہ انسان دوست منصوبہ ہےاور ماحول پر اثرات نہیں چھوڑتا۔ماحولیاتی تبدیلیوں نےپوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے۔اس جیسا منصوبہ دنیا میں آسانی سےقبولیت کی سند پا سکتا ہے۔اگر اس قسم کا منصوبہ تھوڑا مہنگا بھی ہو تو پھر بھی قابل قبول ہوگا کیونکہ دوسرے ایندھنوں کےمقابلے میں یہ ماحول کے لیے بہترین ہے۔
ہائیڈروجن سےتیار کی گئی بجلی یا توانائی سے مختلف قسم کی انڈسٹریز چلائی جا سکتی ہیں۔گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کے سیکٹر کو بھی دیگر روایتی ایندھن کی بجائے گرین ہائیڈروجن سے حاصل کی گئی توانائی پرمنتقل کیا جا سکتا ہے۔روس کی گیس کا سب سے بڑا خریدار یورپ ہےاور روس_یوکرین جنگ کی وجہ سےگیس کا منصوبہ متاثر ہو چکا ہے۔یورپ کی کوشش ہےکہ توانائی کے دوسرے ذرائع استعمال کر کےاس بحران پر قابو پا لیا جائے۔اس توانائی کو کوئی یورپی ملک یا ممالک بھی پیدا کر سکتے ہیں اور کسی ایسے ملک سے بھی خریداری کی جا سکتی ہے جو ان کے مقابلے میں کمزور حیثیت کاحامل ملک ہو۔گرین ہائیڈروجن توانائی کودوسرے ملک تک برآمد کرناتھوڑا سا مشکل ضرور ہے لیکن اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔مستقبل میں یہ منصوبہ کسی بھی ملک کی تقدیر کو راتوں رات بدل سکتا ہے۔جو ممالک اس جیسے منصوبوں پرکام کر رہے ہیں،وہ کامیابی کے بعد غیر معمولی دولت حاصل کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔
گرین ہائیڈروجن منصوبے پرتنقید بھی کی جا رہی ہے۔تنقید کرنے والوں کا موقف ہےکے ہائیڈروجن ایندھن کو صاف طریقے سے تیار کرنے کے لیے قابل تجدید ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ قدرتی طور پرقابل استعمال حالت میں نہیں ہوتی اوراس منصوبے کے لیے حیاتاتی ایندھن کا استعمال ناگزیر ہے،جس کی وجہ سے ماحول متاثر ہوگا۔کوئلہ اورتیل جب تک مکمل طور پرچھوڑ نہیں دیے جاتے اس وقت تک ماحول متاثر ہوتا رہے گا۔نقادوں کا خیال ہے کہ دوسرے توانائی کے ذرائع کی نسبت اس پرزیادہ لاگت آئے گی اوراسے ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جانا بھی بھاری اخراجات کا سبب بنے گا۔ایک اور وجہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ اس جیسے ایندھن کو کسی چیز میں سٹور کرنا بہت ہی مشکل ہوگا،اس کو سٹور کرنے کے لیے قدری دباؤ کی نسبت 700 گنا زیادہ دباؤ کی ضرورت ہوتی ہےاور 253 درجہ حرارت درکار ہوتا ہے۔یہ دھات کو جلا بھی سکتی ہے اور پگھلانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔یہ معمولی سے سوراخ سے بھی خارج ہو سکتی ہے جس کی وجہ سےیہ قیمتی ایندھن ضائع ہوسکتاہے۔یہ دھماکے سے پھٹ بھی سکتی ہےجو کہ کافی تباہی پھیلنےکا امکان ہے۔
پہلے پہل ایندھن کے حصول کے لیےاس طرح کے ذرائع نہیں تھے۔جب کوئلہ اور تیل جیسےذرائع دریافت ہوئےتودنیا میں ایک انقلاب آگیااوران پرتنقید بھی ہوتی رہی،لیکن یہ ذرائع انسانیت کے لیےبہت زیادہ آسانیاں لے آئے۔بجلی کی دریافت بھی بہت بڑا خزانہ ثابت ہوئی اورآج کل انڈسٹریز سے لے کر گھریلوسطح تک اس کا استعمال اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بجلی کے بغیر زندگی گزارنا مشکل بن گیا ہے۔گرین ہائیڈروجن جیسی توانائی تمام تنقیدوں کوچھوڑکرآگےبڑھ جائے گی۔ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں توانائی کسی دوسرے ذریعے سے حاصل ہو جائےاور وہ توانائی سستی بھی ہو اور انسان دوست بھی ہو۔سورج سے بھی وسیع پیمانے پر توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔سولر انرجی کے بھی امکانات روشن ہیں کہ مستقبل میں یہ دوسری توانائیوں کا خلا پر کر دے۔گرین ہائیڈروجن منصوبہ اگر دنیا میں کامیابی سےہمکنارہوگیاتووسیع پیمانے پر تبدیلیاں آجائیں گی۔اس کے نتیجے میں کئی ممالک کی دولت کے توذخائرمیں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا اور کئی ممالک بدترین اقتصادی مسائل کا شکار ہو جائیں گے۔نئی نئی دریافتیں ضروری ہیں،کیونکہ اس سےانسانی زندگی میں بہت سی آسانیاں آجاتی ہیں۔دنیا میں بہت سے اتار چڑھاؤآتے رہتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔تحقیقات جاری ہیں اور نئی نئی دریافتیں جہاں زندگی کو آسان کر رہی ہیں،وہاں کچھ انسانوں کے لیے خطرناک بھی ہیں۔جوہری قوت کو اگرانسانی فائدے کے لیے استعمال کیا جائےتو یہ بہترین عمل کہا جا سکتا ہےاور اسی قوت سےوسیع پیمانوں پر انسانوں کوہلاک کیاجا سکتاہے۔گرین ہائیڈروجن میں ردالبدل کر کےاسےانسانوں کی ہلاکت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس بات کا خدشہ بھی موجود ہےکہ یہ منصوبہ اتنا فائدہ مند نہ ہو۔ہائیڈروجن سے اگرمثبت توانائی حاصل کی جائےتو دنیا میں امن آسکتا ہےلیکن کچھ طاقتیں نہیں چاہتی کہ دنیا پر امن ہو جائے،کیونکہ ان کا مفاد بد امنی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔گرین ہائیڈروجن جیسا منصوبہ قابل قبول بنانے کے لیےعالمی طور پرکوششیں کرنی چاہیے،تاکہ یہ منصوبہ انسانیت کی لیےمزید آسانیاں پیداکرے۔









