وزیراعظم پاکستان کا انڈیا سے آگے نکلنے کا عزم

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف صاحب نےگزشتہ روز ڈیرہ غازی خان میں ایک جلسے سے خطاب کیا ہے۔جلسے سےخطاب کرتے ہوئے بہت کچھ کہا گیا لیکن سب سے بہترین بات یہ کہی گئی کہ انڈیا کو ترقی کے لحاظ سے پیچھے چھوڑ دیں گے۔انہوں نے اس بات کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پاکستان کا مقدر بن چکی ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان بہت سے مسائل کا شکار ہو چکا ہے۔مسائل ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آرہے بلکہ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔انڈیا کے ساتھ مقابلہ کرنا بہترین عمل ہے،لیکن مقابلہ صرف تقریروں یا دعووں سے نہیں ہوتا بلکہ کارکردگی دکھانا پڑتی ہے۔بھارت کی ترقی کا جائزہ لیا جائے تو کہنا پڑتا ہےکہ اس کی ترقی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔حال ہی میں انڈیا اور امریکہ کے درمیان بہت سے تجارتی معاہدے ہوئے ہیں اور خصوصی ہتھیاروں کے معاہدے بھی ہوئےاور جدید ترین طیاروں کو خریدنے کی بات بھی ہوئی۔یہ خرید و فروخت پاکستان کی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے،کیونکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالات اکثر خراب ہی رہتے ہیں۔اسلام اباد اس تشویش کا شکار ہے کہ امریکہ سے خریدے گئے ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔پاکستان معاشی کمزوری کی وجہ سےبھاری ہتھیار خریدنے سےگریز کر رہا ہے،حالانکہ توازن برقرار رکھنے کے لیےپاکستان کو بھی ان ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔پاکستان ایٹمی قوت کا مالک ہے،لیکن روایتی اور جدید ہتھیاروں سے بھی جنگ لڑنا پڑتی ہے۔انڈیا انڈسٹری کو بھی خصوصی توجہ دے رہا ہےاور دیگر شعبوں میں بھی جدت لائی جا رہی ہے،جس سےانڈیا آگے جا رہا ہے۔انڈیا کی آبادی کا بہت بڑا حصہ غربت کا شکار ہے،لیکن مجموعی طور پر انڈیا کو غریب نہیں کہا جا سکتا۔
انڈیا میں اقلیتوں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔آئے روز اقلیتوں کے ساتھ ہر قسم کا ظلم روا رکھا جاتا ہے۔اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کی عزتیں بھی پامال کی جاتی ہیں اور کاروباری لحاظ سے بھی ان کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔انتشار زدہ ماحول انڈیا کے لیے نقصان دہ ہے،لیکن اس بات کا مکمل دعوی نہیں کیا جا سکتا کہ انڈیا ترقی کے لحاظ سے بھی نیچے جا رہا ہے۔انڈیا میں صنعتیں اپنی مصنوعات پیدا کر رہی ہیں اور عالمی مارکیٹ تک رسائی بھی حاصل کر رہی ہیں۔پاکستانی انڈسٹریز خسارے کا شکار ہیں اور کئی صنعتیں بند بھی ہو چکی ہیں۔انڈیا سے اگر مقابلہ کرنا ہے تو ملک کو صنعتوں کے لحاظ سے بہتر بنانا ہوگا اور اس کے لیے انقلابی قدم اٹھانا ہوگا۔بجلی مہنگی ہے جس کی وجہ سےصنعتیں کمزور پوزیشن پر ہیں۔وزیراعظم پاکستان کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ بجلی مہنگی ہے اور اس کا ذکر بھی کیا کہ بجلی کو سستا کیا جائے گا۔مہنگی بجلی انڈسٹریز کو بھی سخت متاثر کر رہی ہےاور دیگر شعبہ جات بھی بجلی کے اثرات سے محفوظ نہیں۔بجلی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے،کیونکہ بجلی سستی کیے بغیرترقی حاصل کرنا ناممکن ہے۔اب حالت یہ بن گئی ہےکہ پاکستان کا ہر شعبہ بہترین کارکردگی دکھانے سےمعذور ہو چکا ہے۔زراعت،بینک،انڈسٹریزاور دیگر معاشی ترقی میں اضافہ کرنے والے شعبےبہت ہی بدحالی کا شکار ہیں۔تمام شعبہ جات کو آگے لانا ہوگا،تب ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم پاکستان نےقرضوں پر بھی بات کی۔قرضوں نےملک کی معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔بھاری سود پرحاصل کیے گئےقرضےملک کو مشکلات کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔قرضوں کی سود کی ادائیگی بھی مشکل سے ادا ہو پاتی ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ قرضےاکثر اوقات کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں اورقرض جس مقصد کے لیے حاصل کیا جاتا ہے،اکثر وہ مقصد پورا نہیں ہو پاتا۔قرضےاتارنے کے لیے کرپشن پر قابو پانا ہوگا۔دہشت گردی کا خاتمہ کیے بغیربھی پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہوگا تب ہی آگے بڑھنا ممکن ہے۔دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیےپوری قوم کوکردار ادا کرنا ہوگاکیونکہ سیکورٹی کے ذمہ دار ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوامی تعاون کے بغیر دہشت گردی پر قابونہیں پاسکتے۔دہشت گردوں نےاپنے آپ کوچھپایاہوتا ہے۔دہشت گردی نےپاکستان کی سلامتی کو بھی شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔میاں شہباز شریف صاحب نےاس بات کا بھی اعلان کیا کہ ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال اور راجن پور میں یونیورسٹی بنائی جائے گی۔صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خصوصی توجہ درکار ہے،لیکن پہلے سےکچھ ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جس سے تعلیم اور صحت کا شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔فوری طور پران مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم پاکستان نےدیگر مسائل کا بھی ذکر کیا۔سب سے بڑی بات پاکستان کو انڈیا سے آگے نکالنے کاعزم ظاہر کرناہے۔امید کی جانی چاہیےکہ پاکستان انڈیا سے آگے نہ سہی،بہتر کارکردگی دکھانے کی پوزیشن پر آجائے گا۔قوم کی مایوسی تب دور ہوگی جب کچھ دکھایا جائے گا۔جذباتی تقاریرعوام میں وقتی جوش تو پیدا کرتی ہیں،لیکن پائیدارحل کی ضرورت ہے۔سیاسی عدم استحکام بھی بہت سےمسائل پیدا کر رہا ہے۔کئی دفعہ مذاکرات کی بات چھڑتی ہے،لیکن پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتی۔حکومت جس طرح فیک نیوز کے خلاف کام کر رہی ہے،اسی طرح دیگر مسائل کی طرف بھی توجہ دے۔حکمرانوں کی خصوصی مراعات اور بہت بڑےہندسوں کی تنخواہیں بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ایک طرف بہت زیادہ غربت اور مجبوریاں نظرآتی ہیں اور دوسری طرف اشرافیہ کےٹھاٹ پھاٹ دیکھ کر قوم کی مایوسی بڑھ جاتی ہے۔بہرحال مایوس نہیں ہونا چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ پاکستان انڈیا سےکئی گنا آگے نکل جائے گا اور ایک دن اس قسم کا اعلان انڈیا کے وزیراعظم قوم کے سامنے کرتےہوئے نظرآئیں گے کہ پاکستان کی ترقی کا مقابلہ کریں گے۔