جنگ بدرکی اہمیت
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
جنگ بدر کا واقعہ کوئی معمولی نہیں بلکہ اسلام میں اس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔جنگ بدر اس وقت لڑی گئی تھی جب مسلمان معاشی اور دفاعی لحاظ سےکمزور تھے لیکن ایمان کے لحاظ سےمضبوط تھےاوروہ اللہ اوراس کے رسول سےبے پناہ محبت کرتے تھے۔جنگ بدر17 رمضان 2ہجری اور عیسوی تاریخ کے لحاظ سے13 مارچ 624 عیسوی کو لڑی گئی۔مسلمان جنگ کے میدان میں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمیت 313 تھےاور کفار کی تعداد ہزار کے قریب تھی۔مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے،70 اونٹ،آٹھ تلواریں اور چھ زرہیں تھیں۔دشمنان اسلام کے پاس 100 گھوڑے،170اونٹوں کے علاوہ سامان حرب بھی کافی تعدادمیں موجود تھا۔جنگ بدر صرف دو گروہوں کی جنگ نہیں تھی بلکہ دو نظریات کی جنگ تھی۔وہ جنگ کسی خونی رشتے،تعلق،لسانی یا علاقائی بنیادوں پر نہیں لڑی گئی،بلکہ اسلام کی برتری کے لیے لڑی گئی تھی۔وہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے سامنے تھے،صرف خونی رشتہ داری نہیں تھی بلکہ لسانی اور علاقائی تعلق بھی تھا۔اس جنگ میں حضرت ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ اپنے بیٹے عبدالرحمان سےاور حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے باپ عتبہ سے لڑ رہے تھے،یعنی خونی رشتہ داری کی بجائےاللہ کی رضا کو مقدم رکھا جا رہا تھا۔مسلمانوں کی ایمانی مضبوطی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازہ حضرت سعدرضی اللہ تعالی عنہ کے ان الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ہم آپ پر ایمان لائے ہیں،ہم نےآپ کی تصدیق کی ہے اور گواہی دی ہے کہ جو کتاب آپ لائے ہیں وہ حق ہے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کیا ہے۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرف مرضی ہو تشریف لے چلیے۔قسم ہےاس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا ہے اگر آپ ہم کو سمندر میں گرنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور اس میں گر پڑیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی باقی نہیں رہے گا”حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کو سن کر بہت ہی خوش ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالی سےدعا مانگی”اے اللہ!یہ قریش ہیں جو اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھوٹا ثابت کریں۔اے اللہ!تیری وہ مدد آجائے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا۔اے اللہ!اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر روئے زمین پر تیری عبادت کہیں نہیں ہوگی”ایسے الفاظ کہ اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر روئے زمین پر تیری عبادت کہیں نہیں ہوگی،صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کہہ سکتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے محبوب ہیں اور ان کی بات اللہ تعالی قبول ہی کرتا ہے۔اللہ تعالی نے مسلمانوں کو شاندار فتح عطا فرمائی اور مشرکین کوذلت آمیز شکست ملی۔
جنگ بدر کوئی معمولی سی جھڑپ یا جنگ نہیں تھی بلکہ کفر اور اسلام کی جنگ تھی۔اس جنگ میں اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعےمسلمانوں کی مدد کی۔جنگ بدر کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے۔قرآن کےمطابق”اور بے شک اللہ نےبدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سروسامان تھے،تو اللہ سے ڈروشاید تم شکر گزارہوجاؤ”(العمران)اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے بھی مدد کی تھی۔قرآن میں ہے”یاد کرو جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو ثابت قدم رکھو۔ میں ان کافروں کے دل میں رعب ودہشت ڈالے دیتاہوں۔ سو تم ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے پورپورپر چوٹ لگاؤ”(الانفال)حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ بدر کےدوران اپنے والد کو قتل کیا۔اللہ کو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ عمل بہت پسند آیا۔قرآن میں اس عمل کا یوں تذکرہ کیا گیا ہے”آپ ایسی قوم کو نہیں پائیں گے جو اللہ اور اس کےرسول پر ایمان رکھتے ہوں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے محبت کریں،خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے قبیلے والے ہوں”(المجادلہ)اس جنگ میں لڑنے والےبدری صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام تو بہت بڑھا ہوا ہےلیکن جن فرشتوں نے بھی اس جنگ میں حصہ لیا وہ بھی بارگاہ الہی میں مقرب ٹھہرے ہیں۔حدیث کے مطابق،حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، عرض کرنے لگے،آپ بدر والوں کو کیسا شمار کرتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!سب مسلمانوں سے افضل ہیں یا اس جیسا کلمہ ارشاد فرمایا۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا اسی طرح جو فرشتے بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے وہ بھی سب فرشتوں سے افضل ہیں۔(بخاری)
جنگ بدر سے ہمیں عظیم درس ملتا ہے کہ اپنی تعداد پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ اللہ کی مدد پر یقین رکھا جائے۔وہ جنگ اسلام کو مٹانے کے لیے لڑی گئی تھی،لیکن اس جنگ کی کامیابی حاصل کرنے کے بعداسلام زیادہ تیزی سے پھیلا۔مسلمان ڈر بھی سکتے تھے،ظاہری طور پر ان کی تعداد اور سامان حرب بھی بہت کم تھا،مخالفین کی تعداد اور سامان حربی زیادہ تھا،لیکن اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین دشمنوں سے ٹکرا گئے۔جنگ بدر کے نتیجے میں 14 مسلمان شہید ہوئےاور مشرکین کے 70 افراد قتل اور 70 افراد قیدی بنا لیے گئے۔مشرکین مکہ کے بڑے بڑے نامور سردار اس جنگ میں واصل جہنم ہوئے۔ذلت آمیز شکست نے دشمنان اسلام کے حوصلے پست کر دیے۔دشمنان اسلام سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کوآسانی سےتباہ کیا جا سکتا ہے،لیکن اس جنگ کے نتائج نے بتا دیا کہ مسلمانوں کوآسانی سے نہیں مٹایا جا سکتاکیونکہ اللہ تعالی کا پسندیدہ دین،دین اسلام ہے اور اس کو مٹایا نہیں جا سکتا۔جنگ بدر کے دوران جودشمن قید ہوئے،ان کو آزاد کرنے کے لیےفدیہ لیا گیا۔غریب قیدیوں کو فری میں بھی چھوڑا گیا اور جو قیدی لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان کو اس شرط پر رہا کیا گیا کہ مسلمانوں کے 10 بچوں کو وہ پڑھنا لکھنا سکھا دیں۔
جنگ بدر سے ہمیں یہ بھی درس ملتا ہےکہ اگراللہ کے علاوہ کسی اور پر بھروسہ نہ کیا جائےتو اللہ تعالی کی مددآ ہی پہنچتی ہے۔صحابہ کرام خالی ہاتھوں لڑےلیکن ایمان کے لحاظ سے بہت اعلی تھے۔ان کو یقین تھا کہ اگر شہید ہو گئے تو اللہ کے ہاں ان کا بہت ہی بڑا اجر ہوگا اور اگر بچ گئے تو بہت بڑی فتح حاصل ہوگی۔مسلمانوں کو یہ بھی درس ملتا ہےکہ حق پر رہتے ہوئےکسی سے بھی نہ ڈرا جائے۔یہ نہیں کہ اللہ تعالی نے صرف بدر والوں کی مدد کر کےباقی کو چھوڑ دیا،بلکہ اب بھی اللہ تعالی کی مددآسکتی ہے۔حالات جتنے بھی کھٹن کیوں نہ ہوں، مشکلات کتنی بھی نہ بڑھ چکی ہوں،اللہ تعالی کی مدد پر بھروسہ رکھا جائےتو اللہ کی مدد آپہنچتی ہے۔حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم نےدعا بھی کی اور میدان جنگ میں بھی اترے،اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ دعائیں بھی ضرور کرنی چاہیے لیکن لڑنے کے لیے بھی پیچھے نہ ہٹا جائے۔اللہ تعالی صرف جنگ کے میدان میں مدد نہیں کرتا بلکہ دنیا کے ہر میدان میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اب بھی اگر اللہ پہ بھروسہ کر کےکسی بھی میدان میں لڑا جائےتو اللہ کی مدد فرشتوں یا کسی دوسرے ذریعے سےآسکتی ہے۔شرط یہی ہے کہ فضائے بدر پیدا کی جائےتو اللہ کی مدد لازما آتی ہے۔بقول اقبال،
فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی۔












