ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو: قیادت کا تسلسل اور قومی اعتماد
تحریر ۔محمد زاہد مجید انور
پاکستان فضائیہ کے سربراہ، ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی مدتِ ملازمت کے اختتام پر ان کی خدمات کا تسلسل برقرار رکھنے کا فیصلہ، حکومتِ پاکستان اور عسکری قیادت کا ایک دانشمندانہ اور قومی مفاد میں کیا گیا اقدام ہے۔ اس فیصلے کو ملکی سلامتی، عسکری استحکام، اور قومی ترقی کی راہ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، قیادت کی صلاحیت، اور وژنری سوچ کے ذریعے پاکستان فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ ان کے دورِ قیادت میں فضائیہ نے نہ صرف دفاعی استعداد میں اضافہ کیا بلکہ ٹیکنالوجی، تربیت، اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ملکی اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی دفاعی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا فیصلہ اس بات کا مظہر ہے کہ ریاستی ادارے تسلسل اور تجربے کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ یہ اقدام دشمن کو ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کی فضائی سرحدیں محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔عوامی، عسکری، اور دفاعی حلقوں میں اس فیصلے کو نہایت سراہا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قیادت کا تسلسل قومی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان فضائیہ نے اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر جو وقار حاصل کیا ہے، وہ قابلِ فخر ہے۔ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی خدمات کو برقرار رکھنا نہ صرف ایک فرد کی قابلیت پر اعتماد ہے بلکہ ادارہ جاتی مضبوطی اور تسلسل کی ایک شاندار مثال بھی ہے۔ اُن کی قیادت میں پاکستان ایئر فورس نہ صرف دفاع وطن کے لیے مضبوط ڈھال بنی رہی بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہوئی۔حکومتِ پاکستان کا یہ فیصلہ وقت کی اہم ترین ضرورت تھا، جس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ یہ قدم نہ صرف پاکستان ایئر فورس بلکہ پوری قوم کے لیے اعتماد اور حوصلے کا باعث بنے گا۔










