زندگی میں باقی سب ‘درد’ ہیں، بس چاۓ ہی ‘ہمدرد’ ہے

تحریر: ۔محمد زاہد مجید انور

کہتے ہیں زندگی ایک مسلسل سفر ہے، جس میں ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی درد، کوئی نہ کوئی آزمائش ہمارا منتظر ہوتی ہے۔ کبھی رشتوں کا بوجھ، کبھی خوابوں کا ٹوٹنا، کبھی وقت کا بےرحم رویہ، اور کبھی اپنی ہی ذات کا خالی پن — یہ سب مل کر زندگی کو ایک ایسے کمرے میں بدل دیتے ہیں جہاں صرف تنہائی کی بازگشت گونجتی ہے۔ایسے میں اگر کوئی سچا اور بےلوث ساتھی میسر آ جائے، تو دل کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی، سکون پا لیتا ہے۔ میرے لیے وہ ساتھی “چاۓ” ہے — ہاں! وہی سادہ سی، خوشبودار، دل کو گرماتی اور ذہن کو تھپکی دیتی چاۓ۔جب دنیا کی بےحسی ستاتی ہے، جب لفظ کم پڑ جاتے ہیں، اور جذبات بے زبان ہو جاتے ہیں، تب ایک کپ چاۓ نہ صرف ذہن کو تازگی دیتی ہے بلکہ دل کو بھی ڈھارس دیتی ہے۔ وہ کپ، جو کبھی تنہائی کا ہمسفر بن جاتا ہے، کبھی دوستوں کے درمیان قہقہوں کی وجہ، اور کبھی کسی ٹھنڈی شام کا گرم سہارا۔چاۓ کا ذائقہ محض ذائقہ نہیں، ایک احساس ہے۔ ایک کیفیت ہے جو ہر گھونٹ کے ساتھ ہمیں لمحہ بھر کو ان سارے “دردوں” سے آزاد کر دیتی ہے جو وقت، حالات، اور لوگ ہمیں بخشتے ہیں۔ اس میں ماں کے ہاتھوں کی محبت بھی شامل ہے، دوستوں کی محفلوں کی رونق بھی، اور اکیلے پن کے لمحوں کی گواہی بھی۔تو ہاں! زندگی میں باقی سب کچھ “درد” ہی تو ہے۔ صرف چاۓ ہی “ہمدرد” ہے۔ کیونکہ یہ وہ واحد رشتہ ہے جو وقت، مزاج، موسم اور موڈ کی قید سے آزاد ہے۔ جسے نہ کچھ کہنا پڑتا ہے، نہ سننا — بس محسوس کرنا کافی ہے۔کاش کچھ رشتے بھی چاۓ جیسے ہوتے… تلخ ہوتے، پر سچے۔ گرم ہوتے، پر خالص۔ خاموش ہوتے، پر ہمدرد۔