طوفانی ہواؤں کا قہر جیسروالہ کے نزدیک Go پٹرول پمپ کی چھت کا اڑ جانا ایک لمحۂ فکریہ
تحریر۔۔محمد زاہد مجید انور
قدرت کی بے قابو طاقت جب اپنے جلوے دکھاتی ہے تو انسان کی بنائی ہوئی مضبوط ترین عمارات بھی بے بسی کی تصویر بن جاتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی منظر ڈسکہ اور گردونواح میں آنے والے شدید طوفانی موسم میں دیکھنے کو ملا، جب جیسروالہ کے نزدیک واقع Go پٹرول پمپ کی چھت تیز ہواؤں کے باعث اُڑ گئی۔ یہ منظر نہ صرف خوفناک تھا بلکہ عبرت ناک بھی۔طوفانی ہواؤں کا یہ سلسلہ اچانک شروع ہوا، اور چند ہی لمحوں میں ہر شے تہس نہس ہونے لگی۔ درخت جڑوں سے اکھڑنے لگے، بجلی کے کھمبے لرزنے لگے، اور جب Go پٹرول پمپ کی چھت ایک زور دار آواز کے ساتھ فضا میں بلند ہو کر قریبی جگہوں پر جا گری، تو ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ یہ کسی فلمی منظر سے کم نہ تھا — مگر بدقسمتی سے یہ حقیقت تھی۔عینی شاہدین کے مطابق، چھت کے اڑنے کا منظر نہایت خوفناک تھا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، تاہم املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ پٹرول پمپ کی قریبی دوکانوں، کھڑی گاڑیوں اور بعض مقامی رہائشی دیواروں کو بھی نقصان پہنچا۔اس واقعے نے ایک بار پھر ہمارے شہروں اور دیہات میں موجود انفراسٹرکچر کے معیار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کیا ہماری عمارتیں واقعی طوفانی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہیں؟ کیا پٹرول پمپ جیسے حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات اور مضبوط تعمیراتی ڈھانچے پر مناسب توجہ دی جا رہی ہےمحکمہ موسمیات کی جانب سے پہلے ہی طوفانی ہواؤں اور بارشوں کی وارننگ دی گئی تھی، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر مقامات پر ان انتباہات کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے تعمیراتی معیارات کو سختی سے نافذ کریں، اور عوام میں قدرتی آفات سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے۔ پٹرول پمپ جیسے حساس مقامات پر ایمرجنسی پلان، آگ سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیر کو لازم قرار دیا جائے۔آخر میں، اللہ کا شکر ہے کہ اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن ہمیں یہ مت بھولنا چاہیے کہ قدرت کے ان اشاروں سے سبق نہ لیا گیا تو آنے والا طوفان صرف چھتیں نہیں، شاید زندگیاں بھی ساتھ لے جائے۔






