وفاقی بجٹ کی پیشکش میں ممکنہ تاخیر: عید اور اقتصادی شیڈول کی الجھن
تحریر۔محمد زاہد مجید انور
اسلام آباد کی راہداریوں میں ایک بار پھر مالیاتی گھنٹی بجنے کو ہے، لیکن اس بار صرف بجٹ ہی زیر بحث نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑی تاریخیں اور مصروفیات بھی حکومت کے لیے چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2025-2024 کے بجٹ کی پیشکش کی تاریخ میں ایک بار پھر رد و بدل کا امکان ہے۔یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب عید الاضحیٰ کے متوقع ایّام اور قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اجلاس و اقتصادی سروے کے اجراء کی تاریخیں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ اطلاعات کے مطابق عید کی چھٹیاں 7 اور 8 جون کو ہوں گی، جب کہ 9 جون، جو عید کا تیسرا دن ہوگا، کو ورکنگ ڈے قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہی دن قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس اور اقتصادی سروے کے اجراء کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ہی دن میں دونوں اہم سرگرمیوں — NEC کا دن بھر جاری رہنے والا اجلاس اور تفصیلی اقتصادی سروے کی اشاعت — کا انعقاد بظاہر ممکن نہیں۔ لہٰذا روایتی روایت کے مطابق، جہاں بجٹ پیش کرنے اور NEC اجلاس کے درمیان کم از کم دو دن کا وقفہ رکھا جاتا ہے، حکومت اب بجٹ پیش کرنے کی تاریخ کو 10 جون سے بڑھا کر 12 جون تک لے جا سکتی ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم شریک ہوں گے۔ اس اجلاس میں ترقیاتی پروگرامز کو حتمی شکل دی جاتی ہے، جس کی روشنی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ ترتیب دیا جاتا ہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وفاقی بجٹ صرف ایک مالیاتی دستاویز نہیں، بلکہ ایک سیاسی و معاشی بیانیہ ہوتا ہے، جو حکومت کے وژن، ترجیحات اور زمینی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے میں تاریخ کا درست تعین نہ صرف انتظامی لحاظ سے اہم ہے بلکہ عوامی تاثر کے حوالے سے بھی بہت معنی رکھتا ہے۔اگرچہ 2 جون کو بجٹ پیش کیے جانے کی بازگشت بھی سنائی دی، لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے زیادہ امکان یہی ہے کہ بجٹ کی پیشکش کی تاریخ کو ایک یا دو دن موخر کر کے سارا عمل سہل اور منظم بنایا جائے گا۔گویا وفاقی حکومت کو اب صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ تاریخوں اور تقویم کے پیچیدہ جغرافیے سے بھی نبردآزما ہونا پڑے گا۔













