محترمہ عقیلہ انتخاب خان – دیانت داری اور فرض شناسی کی روشن مثال
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور
*جب بھی بات سرکاری اداروں میں دیانت داری، فرض شناسی اور عوامی خدمت کے جذبے کی ہو، تو چند نام ہی ایسے ہوتے ہیں جو حقیقی معنوں میں ان صفات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ عقیلہ انتخاب خان کا نام بھی انہی روشن مثالوں میں شامل ہے۔محترمہ عقیلہ انتخاب خان نے اپنی تعیناتی کے دوران جس جانفشانی، ایمانداری اور پیشہ ورانہ بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے ضلع بھر کے سرکاری اسکولوں میں صفائی ستھرائی، نظم و ضبط، اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے جو اقدامات کیے، ان کی نظیر ماضی قریب میں تلاش کرنا مشکل ہے۔ان کی قیادت میں اسکولوں کے بنیادی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا گیا۔ کلاس رومز کی صفائی، واش رومز کی بہتری، اور طلبہ کو ایک صاف ستھرا اور مثبت تعلیمی ماحول مہیا کرنا ان کے وژن کا حصہ تھا۔ انہوں نے نہ صرف اساتذہ کو جوابدہ بنایا بلکہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر فیلڈ وزٹس کو معمول کا حصہ بنایا تاکہ ہر اسکول کی کارکردگی پر براہِ راست نظر رکھی جا سکے محترمہ عقیلہ انتخاب خان کی سب سے بڑی خوبی ان کی دبنگ شخصیت ہے۔ انہوں نے ہر سطح پر بدعنوانی اور غفلت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنا ان کا امتیاز رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دور کو ایک مثالی دور تصور کیا جاتا ہے، جہاں تعلیم اور نظم و ضبط کو اولین ترجیح حاصل رہی۔ضلع کے عوام، اساتذہ اور طلبہ ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایسے باکردار اور مخلص افسران ہی حقیقی تبدیلی کے علمبردار ہوتے ہیں۔ آج جب وہ اس عہدے پر نہیں رہیں، تب بھی ان کے نقشِ قدم ایک روشن مثال کے طور پر موجود ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے افسران بھی محترمہ عقیلہ انتخاب خان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے خلوصِ نیت سے کام کریں گے۔*












