شاعر اہلِ سنت، عاشقِ صحابہ: خان محمد “کمتر” مرحوم کی یاد میں
تحریر۔۔محمد ساجد مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
31 مئی 1980… یہ تاریخ اہلِ سنت کے ایک سچے خادم، عظمتِ صحابہؓ کے والہانہ ترجمان، اور سرائیکی زبان کے قادرالکلام شاعر جناب خان محمد “کمتر” رحمہ اللہ کے وصال کی یاد دلاتی ہے۔ اُن کے کلام کی گونج، اُن کی زبان و بیان کی مٹھاس اور اُن کے لہجے کا خلوص آج بھی ہمارے قلوب پر دستک دیتا ہے۔
بچپن سے کمتر صاحب کا نام سنتے آئے تھے۔ اُن کی نعتیہ و مناقب شاعری دل پر اثر کرتی، اور اُن کی عقیدت انگیز نظمیں ہمیں اُن کی زیارت کا شوق دلاتیں۔ بالآخر اللہ نے یہ سعادت نصیب فرمائی جامع مسجد فردوس پپلاں سے متصل قبرستان میں اُن کے مزار پر حاضری ہوئی۔ دعا کے ساتھ دل نے کہا: “واقعی یہ قبر ایک سچے مدح گو کی آخری منزل ہے۔”
ولادت، خاندان اور تعلیم
آپ کی ولادت 1915ء میں ضلع میانوالی کے معروف قصبہ پپلاں میں ہوئی۔ والد کا نام بختاور اور دادا کا نام غلام محمد تھا۔ آپ مسلم شیخ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ والد نے دو شادیاں کیں، جن سے کل چھ اولادیں ہوئیں، اور ان میں کمتر مرحوم سب سے بڑے تھے۔ ابتدائی تعلیم پپلاں ہی میں حاصل کی، اور مڈل تک تعلیم مکمل کی۔ دادا اور نانا دیندار، نیک، متقی اور اہلِ دل بزرگ تھے جن کی صحبت کا اثر آپ کے مزاج و کردار میں جھلکتا تھا۔
فوجی زندگی اور حب الوطنی
تعلیم کے بعد فوج میں شامل ہو گئے۔ تقریباً سات سال حوالدار کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ قیامِ پاکستان سے ایک ماہ قبل آپ سنگاپور سے واپس لوٹے۔ دورانِ ملازمت جرأت و بہادری کے تمغے حاصل کیے جو آج بھی اُن کے ورثاء کے پاس محفوظ ہیں۔ خودداری کا یہ عالم کہ جب ساتھیوں نے پاکستان حکومت سے فوائد لینے کی تلقین کی تو فرمایا:
جنہوں نے گھر بھیجا، ان سے کیا مانگوں؟ رزق کا مالک اللہ ہے!”
شاعری سے شغف، آغاز اور عروج
شاعری کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ اسکول کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ استاد محمد عبداللہ خان بیشر سے اصلاح لیتے رہے۔ کچھ عرصہ فنِ موسیقی بھی سیکھا، مگر جب خاندان اور معززین نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو سیدھی راہ اختیار کی اور مدحِ رسولؐ و صحابہؓ کو اپنا مشن بنایا۔
رمضان المبارک کی 27ویں شب مسجد مائی صاحب میں پہلی نظم پیش کی، جس کا پہلا شعر تھا:
جے دم جیسوں یاد کر یسوں برکتان ماہ رمضان دیاں
امت نبی تے نازل ہوئیاں رحمتاں رب رحمان دیاں
یہی لمحہ اُن کے فکری و فنی عروج کی ابتداء تھا۔ ہر طرف سے دعوتیں ملنے لگیں۔ علماء کرام، عوام، مساجد و مدارس—سب نے پذیرائی کی
—
تنظیم اہلِ سنت سے وابستگی
ایک جلسے کے سلسلے میں کالا باغ تشریف لے گئے۔ وہاں مولانا دوست محمد قریشیؒ، مولانا نورالحسن شاہ بخاریؒ، علامہ خالد محمودؒ، اور حضرت مولانا قائم الدین عباسیؒ سے ملاقات ہوئی۔ ان اکابر کی دعوت پر تنظیم اہلِ سنت پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور پوری زندگی عظمتِ صحابہؓ کے گیت گاتے ملک بھر میں گشت کیا۔
رفض و بدعت کے فتنے کے دور میں کم و بیش ہر ضلع، ہر گاؤں میں عظمت صحابہؓ کی گونج بنے۔ وہ میدان، جہاں اکثر لوگ مصلحت کی آڑ میں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، وہاں “کمتر” جیسا عاشقِ صحابہؓ نعرۂ حق بلند کرتا رہا
حضرت مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد صاحب نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک نہایت اہم تاریخی بات ذکر فرماتے ہیں:
کہ1970ء کے الیکشن میں ہمارے چچا محترم ملک افضل تلوکر مرحوم، جمعیت علماء اسلام کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے۔ اس موقع پر جناب خان محمد کمتر مرحوم پورے ایک ہفتہ کے لیے خانقاہ شریف میں قیام پذیر رہے۔ وہ دن بھر انتخابی مہم کے جلسوں میں شریک ہوتے، نعتیہ کلام پڑھتے اور عوام کو دینی ووٹ کی اہمیت سمجھاتے، جبکہ رات خانقاہ شریف میں گزارتے۔”
یہ واقعہ صرف ایک انتخابی مہم نہیں، بلکہ دینی شعور، صحابہ کرامؓ سے محبت، ختم نبوت کے تحفظ اور علماء کے ساتھ عملی رفاقت کا ایک روشن باب ہے۔
خان محمد کمتر مرحوم کا یہ کردار واضح کرتا ہے کہ وہ شاعر ہی نہیں، نظریاتی کارکن اور دینی تحریکوں کے فعّال معاون بھی تھے۔ ان کے اشعار میں جذبات کی شدت، عقیدے کی گہرائی، اور دعوت کا جوش موجود ہوتا تھا، جس سے عوام الناس متاثر ہوتے اور حق کی طرف راغب ہوتے۔
اخلاق و انکساری
اگرچہ رنگ سانولا تھا، لیکن چہرہ نور سے چمکتا تھا۔ اخلاق ایسا کہ بزرگ، بچے، ہر شخص گرویدہ تھا۔ ایک زمیندار دوست محمد امیر خان کہا کرتے تھے:
یہ کالے رنگ کا بچہ بڑا ہو کر اپنے دین و قوم کا نام روشن کرے گا۔”
واقعی اُن کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔
سخاوت و زہد
مال و دولت زیادہ نہ تھی، مگر جو کچھ بھی ہوتا راہِ خدا میں خرچ کر دیتے۔ مسکینوں میں بانٹتے یا مدارس کو عطیہ دیتے۔ جلسوں، پروگرامات میں کبھی خرچ، کرایہ یا معاوضہ کا مطالبہ نہ کیا۔
—
علالت، آخری سفر اور وفات
وفات سے ایک سال قبل تبخیر کی بیماری لاحق ہوئی۔ علاج کے بعد پھر جلسوں میں شریک ہوتے رہے۔ آخری جلسہ موضع سرگانی (کروڑ لعل عیسن) میں ہوا۔ اس کے بعد طبیعت پھر بگڑی، اور 31 مئی 1980ء بروز ہفتہ، 65 برس کی عمر میں دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔
صدر تنظیم اہلِ سنت پاکستان علامہ عبدالستار تونسویؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور اپنے ہاتھوں سے سپرد خاک کیا۔
بعد از وفات تأثرات
وفات کی خبر پورے ملک میں پھیل گئی۔ ہر مکتب فکر، ہر طبقہ زندگی کے لوگ اُن کے جنازے میں شریک ہوئے۔ علامہ زاہد الراشدی لکھتے ہیں:
اگر اظہار کے لیے کوئی اور میدان چنتے تو اُن کی آواز گھر گھر گونجتی، مگر انھوں نے مدح صحابہؓ کو اپنا میدان بنایا، اور مصائب و مشکلات سے لبریز قافلے کے حدی خواں بنے۔”
خان محمد “کمتر” مرحوم کی سرائیکی شاعری، ان کا خلوص، اور عشقِ صحابہؓ کا والہانہ رنگ آج بھی اُنہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور انہیں ان مقدس ہستیوں کی معیت نصیب فرمائے جن کی عظمت انہوں نے ہر شعر میں بیان کی۔
“وہ شاعر نہیں، عاشق تھا… اور ایسے عاشق کم ہی ملا کرتے ہیں








