وفاقی بجٹ 2025-26: عوامی ریلیف یا معاشی دباؤ؟

تحریر: محمد زاہد مجید انور

وفاقی حکومت نے نئے مالی سال 2024-25 کے لیے بجٹ دستاویزات جاری کر دی ہیں جن کے مطابق بجٹ کا مجموعی حجم 17,573 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ کے خدوخال کا جائزہ لیا جائے تو ایک جانب ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے، تو دوسری جانب ٹیکسوں اور لیویز میں اضافے سے عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ بھی متوقع ہے۔ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات۔۔۔۔۔بجٹ میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1,000 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات 16,286 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ اس بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8,207 ارب روپے اور دفاعی اخراجات کے لیے 2,550 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ۔۔۔سرکاری ملازمین کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دینے کی بھی تجویز ہے، جو کہ ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔نئے ٹیکس اور ٹیکس اصلاحات۔۔۔۔بجٹ میں تقریباً 2,000 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ تمام سیلری سلیبز پر ٹیکس میں 2.5 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے جو متوسط طبقے کے لیے جزوی ریلیف کا باعث ہو سکتی ہے، تاہم:

[نان فائلرز کے لیے سختیاں بڑھا دی گئی ہیں۔]

[بینک سے 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم نکلوانے پر ٹیکس کی شرح 1.2 فیصد تجویز کی گئی ہے۔]
یوٹیوبرز، فری لانسرز اور دیگر ڈیجیٹل کمائی کرنے والوں پر بھی نئے ٹیکس اقدامات متوقع ہیں۔اشیائے صرف پر ایکسائز ڈیوٹی۔۔۔حکومت نے متعدد اشیائے صرف مثلاً چپس، کولڈڈرنکس، آئس کریم پر ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم لیوی 78 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ مزید برآں:

[پیٹرولیم مصنوعات صرف ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے خریدی جا سکیں گی۔]

[نقد ادائیگی پر 2 روپے فی لیٹر اضافی چارج کیا جائے گا۔]

[وفاقی ترقیاتی منصوبے]

[وفاقی ترقیاتی بجٹ کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے رقم کی تفصیلات درج ذیل ہیں:]

[وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے منصوبوں کے لیے 682 ارب روپے سے زائد]

[این ایچ اے کے لیے 226.98 ارب روپے]

[پاور ڈویژن کو 90.22 ارب روپے]

[آبی وسائل ڈویژن کے لیے 133.42 ارب روپے]

[ارکان پارلیمنٹ و صوبائی ترقیاتی فنڈز]

[ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 70.38 ارب روپے]

[صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 2,869 ارب روپے]

[انضمام شدہ اضلاع کے لیے 65.44 ارب روپے]

[آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے لیے 82 ارب روپے]

[فیڈرل ایجوکیشن اور پروفیشنل ٹریننگ کے لیے 18.58 ارب روپے]
عوامی ردعمل اور آئندہ لائحہ عمل۔۔۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت معاشی ٹیم کا اجلاس متوقع ہے جس میں بجٹ تجاویز پر مزید غور اور ممکنہ ترامیم کی جائیں گی۔ ایک جانب حکومت نے ترقیاتی اقدامات اور ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیا ہے، وہیں عوام پر مہنگائی، ٹیکسوں اور توانائی کے بڑھتے نرخوں کا دباؤ برقرار رہے گا۔