عنوان: یقین، ہمت اور خواب کی تعبیر — سنیل یونس کی کہانی

تحریر: محمد زاہد مجید انور

جب کسی معاشرے میں خواب صرف مخصوص طبقات کا حق سمجھے جائیں، تو وہاں ایک عام، غریب اور اقلیتی پس منظر سے تعلق رکھنے والا نوجوان اگر ان خوابوں کو حقیقت میں ڈھال دے، تو وہ نہ صرف تاریخ بناتا ہے، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی بن جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے سنیل یونس کی — ایک عام انسان سے سول سرونٹ تک کا سفر۔فیصل آباد کے تحصیل سمندری میں پیدا ہونے والا سنیل، ایک مسیحی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا تعلق کسی بڑے نجی اسکول، مہنگی کوچنگ یا اشرافیہ خاندان سے نہیں بلکہ ایک ایسے دیندار، متوسط طبقے کے گھر سے ہے جہاں اس کے والد پادری یونس جلال پچھلے 35 سال سے مذہبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔سنیل نے ایک عام سرکاری اسکول سے تعلیم حاصل کی، ایف ایس سی میں نمایاں نمبر حاصل کیے اور ڈاکٹر بننے کا خواب آنکھوں میں سجا کر تین بار MDCAT دیا — مگر ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے لوگ اس مقام پر ہار مان لیتے ہیں، لیکن سنیل نے ایک نئی راہ کا انتخاب کیا۔یونیورسٹی آف ایگریکلچر، فیصل آباد میں تعلیم کے دوران، کورونا کے دنوں میں ایک ہاسٹل میں ہونے والی معمولی سی بات چیت نے اس کی سوچ بدل دی۔ بات CSS کی ہو رہی تھی — وہی مقابلے کا امتحان جس کا تصور ہی عام طالبعلم کو مرعوب کر دیتا ہے۔ مگر سنیل کے لیے یہ ایک نئی امید کی کرن بن گیا۔ اس نے خود سے وعدہ کیا: “اگر ڈاکٹر نہیں بن سکا تو کیا ہوا، میں ایک دن اس ملک کا افسر بن کر دکھاؤں گا۔”یقیناً، خواب آسان نہ تھا۔ اس نے آن لائن کلاسز سے شروعات کی، بی ایس سی کے ساتھ ساتھ CSS کی تیاری کی۔ پھر اسلام آباد کی NOA اکیڈمی میں جا کر باقاعدہ کوچنگ لی۔ 2023 میں پہلی کوشش کی، MPT پاس کیا مگر تحریری امتحان میں ناکامی ہوئی۔ مگر یہ ناکامی، مایوسی کی انتہا نہیں بلکہ سبق کا آغاز تھی۔اسی سال Special CSS-2023 کا اعلان ہوا۔ سنیل نے نئی امید کے ساتھ ایک بار پھر خود کو تیار کیا، ماک امتحانات دیے، خود کو جھونک دیا۔ اور پھر وہ لمحہ آیا جب 14 مئی 2025 کو Special CSS کا حتمی نتیجہ جاری ہوا — سنیل یونس نے پاکستان بھر میں 101 واں اور پنجاب میں دوسرا نمبر حاصل کیا۔اب وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) میں اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر ملک کی خدمت کے لیے تیار ہے۔ 25 برس کی عمر، تین MDCAT ناکامیاں، ایک CSS ناکامی، اور پانچ برسوں کی غیرمتزلزل محنت — سنیل کا یہ سفر بتاتا ہے کہ جب خواب کے ساتھ یقین ہو اور محنت کے ساتھ استقامت ہو، تو کوئی منزل دور نہیں۔سنیل کا کہنا ہے:> “یہ صرف میری کامیابی نہیں، بلکہ میرے ایمان کی گواہی ہے۔ میں نے خدا پر یقین کیا، اور خدا نے میرے یقین کو سچ کر دکھایا۔ میری دعا ہے کہ یہ کامیابی ایک ورثہ بنے — دوسروں کے لیے مثال۔”اختتامیہ:سنیل کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ رنگ، مذہب، علاقے یا طبقے کی تفریق خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اگر ریاست واقعی میرٹ اور برابری پر یقین رکھتی ہے تو ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی کہانیوں کو اجاگر کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ سنیل یونس کی یہ کامیابی صرف اس کی نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر اس نوجوان کی ہے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھنے کی جرأت رکھتا ہے۔