ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے معروف عالم دین: مذہبی سکالر حضرت مولانا ڈاکٹر پیر محمد رفیق انور چشتی

تحریر۔محمد زاہد مجید انور

*ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مذہبی اور سماجی وسیاسی تاریخ میں جن شخصیات کے نام سنہری حروف میں لکھے جاتے ہیں، ان میں حضرت مولانا ڈاکٹر پیر محمد رفیق انور چشتی کا نام نمایاں مقام رکھتا ہے۔ آپ 1966ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم میاں برکت علی مرحوم نہایت شریف النفس پابند صوم وصلوتہ تہجد گزار،، نیک سیرت اور دینی جذبے سے سرشار شخصیت تھے، جنہوں نے دینی خدمات میں بھرپور حصہ لیا۔مولانا ڈاکٹر محمد رفیق انور چشتی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے حاصل کی اور اسی شہر میں دینی تعلیم کے سلسلے میں آپ نے ایک سال جامعہ دارالعلوم ربانیہ پھلور میں گزارا۔ بعد ازاں، آپ کو خطیب شہر مجاہد ختم نبوت اسیر تحریک نظام مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی مرحوم نے کراچی میں عالم اسلام کی معروف یونیورسٹی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاون میں 1982 میں مزید دینی تعلیم وتربیت کے لیئے داخل کروایا جہاں موصوف نے اپنے زمانہ تعلیم کے مکمل آٹھ سال اکا بر علما ومشائخ کی سرپرستی میں رہ کر شرف تلمذ حاصل کیا اورساتھ ھی کراچی بورڈ سے میٹرک اور فاضل عربی کے امتحانات اعلیٰ نمبروں سے پاس کیے۔ اور ایک باعمل عالم دین کے طور پر ابھرے۔خطابت کے میدان میں بھی مولانا ڈاکٹر وحکیم پیر محمد رفیق انور چشتی کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے مختلف شہروں میں بحیثیت خطیب کے فرائض سرانجام دئیے 1994ء میں آپ لکڑ منڈی کی مسجد میں بطور خطیب متعین ہوئے جمعہ کا آغاز آپکے خطبہ سے ھوا ۔اور 2001ء میں جامع مدنی مسجد محلہ عرفات میں میں خطابت شروع کی جو،تاھنوز جاری وساری ھے جہاں آج بھی آپ عوام الناس کی دینی رہنمائی کر رہے ہیں۔نیز ھر جمعہ بعداز نماز مجلس زکر کرواتے ھیں جسکی اجازت آپکو شیخ العرب والعجم عارف باللہ الشاہ مولانا حکیم محمد اختر نے خلافت وبیعت کی اجازت عطا فرمائی ھے مولانا ڈاکٹر وحکیم پیرمحمد رفیق انور چشتی نے نہ صرف دینی خدمات انجام دیں بلکہ سماجی وسیاسی میدان میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔اور،2013 کے قومی وصوبائی الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے،کتاب نشان پر بھرپور حصہ لیا آپ نے شہر کے علما، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کی مشاورت سے “مجلس مفاد عاملہ” کے تحت عوامی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ اس تنظیم کے بانی بزرگ اور سینئر سیاستدان بابا جی قاضی غیاث الدین جانباز تھے، جن کی بے لوث عوامی خدمات آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔2012ء میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف مولانا صاحب نے بابا جی قاضی غیاث الدین جانباز کے ہمراہ واپڈا آفس کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا۔ یہ کیمپ شہر کی تاریخ میں ایک یادگار احتجاج کے طور پر آج بھی زندہ ہے۔ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر سید جاوید اقبال بخاری نے خود کیمپ آ کر احتجاج ختم کروایا۔مولانا ڈاکٹر وحکیم پیر محمد رفیق انور چشتی کا ایک اور قابلِ ذکر شعبہ صحافت ہے۔ آپ نے 1985ء میں روزنامہ اعلان کراچی سے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد آپ نے مختلف قومی و علاقائی اخبارات میں کام کیا اور دینی و سماجی موضوعات پر قلم اٹھایا اور،موصوف متعدد دینی کتب کے مصنف بھی ہیں علاوہ ازیں موصوف نے ساوتھ افریقہ ۔ عرب امارات ۔یمن ۔قطر ۔ترکیہ برطانیہ ۔ بھارت کے تبلیغی اسفار،بھی کئے ہیں ۔مولانا صاحب نے عوامی خدمت خلق کے لیئے اپنے والد مرحوم کے نام سے معنون البرکت میموریل ھسپتال اور،مرکزی جامع مسجد تقوی جگنوپارک کے متولی وبانی بھی ہیں مولانا ڈاکٹر وحکیم پیر محمد رفیق انور چشتی ھمہ جہت شخصیت علم، عمل، اخلاص، اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج ہے۔ موصوف نہ صرف مسجد کے منبر پر بلکہ عوامی اجتماعات، احتجاجی تحریکوں، اور اخبارات کے صفحات پر بھی قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ان کی دینی، سماجی وسیاسی صحافتی خدمات پر بجا طور پر فخر کر سکتا ہے۔اگر یوں کہا جائے تو،بے جا،نہ ھوگا
مولانا صاحب
مولانا ھرفن مولا ہیں