امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ: ایک عہد ساز شخصیت
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ برصغیر کی تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جنہوں نے دین و سیاست کو ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ یکجا سمجھا۔ آپ 1891ء میں پٹنہ (بہار) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباؤ اجداد کا تعلق ضلع گجرات کے گاؤں ناگڑیاں سے تھا لیکن آپ کے والد مولوی ضیاء الدین احمد نے تبلیغی مقاصد کے لیے پٹنہ کو اپنا مستقر بنایا۔بچپن ہی سے شاہ صاحبؒ نے سیاسی اور دینی شعور کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز 1918ء میں ہوا، جب کانگریس اور مسلم لیگ نے امرتسر میں خلافت تحریک کی حمایت میں ایک مشترکہ جلسہ منعقد کیا۔ اس جلسے میں شاہ بخاریؒ نے اپنی پُرجوش تقریر سے عوام کے دلوں کو گرما دیا۔ بعد ازاں وہ برصغیر کے مشہور ترین خطیبوں میں شمار ہونے لگے۔ ان کی تقریریں سننے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے۔مجلس احرار اسلام کی بنیاد۔۔۔شاہ صاحبؒ نے 1929ء میں اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر ایک الگ سیاسی جماعت “مجلس احرار اسلام” کی بنیاد رکھی۔ اس جماعت کا مقصد برطانوی سامراج کی مخالفت اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت تھا۔ شاہ بخاریؒ کئی سال تک اس جماعت کے صدر بھی رہے۔ ان کی جماعت نے تحریک پاکستان سے اصولی اختلاف کیا۔ شاہ صاحبؒ کا مؤقف تھا کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں کے لیے مہلک ہو گا۔ وہ اسے ہلاکت آفرین اور خطرناک قرار دیتے تھے۔امیر شریعت، برہمچاری اور “ڈنڈے والا پیر”سیاسی و مذہبی حلقوں میں شاہ بخاریؒ کو “امیر شریعت” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے سیاسی مخالفین بھی ان کے علم و فضل اور خطابت کے معترف تھے۔ بعض نے انھیں طنزاً “پنڈت کرپا رام برہمچاری” اور “ڈنڈے والا پیر” کہا، لیکن یہ نام بھی ان کی شخصیت کے اثرات کا اظہار کرتے ہیں۔۔۔۔قید و بند کی صعوبتیں ۔۔۔۔۔شاہ صاحبؒ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ قید و بند کی صعوبتوں میں گزرا۔ مجموعی طور پر وہ 18 سال مختلف جیلوں میں قید رہے، مگر کبھی اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹے۔ ان کا جذبہ، استقلال اور دینی غیرت آج کے سیاسی و دینی قائدین کے لیے مشعل راہ ہے۔مخالفِ احمدیت۔۔۔۔ شاہ بخاریؒ تحریک ختمِ نبوت کے صف اوّل کے رہنما تھے۔ وہ قادیانیت کو اسلام کے لیے ایک خطرہ سمجھتے تھے اور اس کے خلاف منظم علمی و عوامی مہم چلائی۔ “حیات امیر شریعت” کے مصنف جانباز مرزا نے اس پہلو پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے جنہوں نے اپنے علم، عمل، اخلاص، خطابت، اور جرأت سے ایک پوری نسل کو متاثر کیا۔ آج بھی ان کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دینی حمیت اور سیاسی شعور ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں — بشرطیکہ نیت خالص ہو اور مقصد اسلام کا بول بالا۔










