چاندنی رات اور خاموش موسم کا فسوں
تحریر ۔محمد زاہد مجید انور
رات کی تاریخ آج کچھ الگ ہی انداز لیے ہوئے ہے۔ فضا میں ایک عجیب سی خاموشی ہے، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ موسم اپنی ٹھنڈک کے ساتھ دل و دماغ کو چھو رہا ہے۔ ہر سانس میں ایک تازگی ہے، ہر جھونکا ایک کہانی سناتا محسوس ہوتا ہے۔ آسمان پر چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے، جیسے کسی شاعر کے خواب کو حقیقت کا روپ دے رہا ہو۔چاند کی روشنی زمین پر پھیل کر اسے چاندی کی چادر میں لپیٹ رہی ہے۔ درختوں کے سائے لمبے ہو کر زمین پر نقوش بناتے ہیں اور ان کے درمیان چاندنی کا رقص دل کو چھو لینے والا منظر پیش کرتا ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں انسان فطرت کے قریب ہو جاتا ہے، اپنے آپ سے باتیں کرنے لگتا ہے۔اس چاندنی رات میں نہ شور ہے، نہ ہجوم… صرف سکون ہے، خاموشی ہے، اور ایک بےنام سا جذبہ جو دل کے کسی کونے میں ہلکی سی روشنی کی مانند جلتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے قدرت نے آج کی رات صرف ان لوگوں کے لیے سنواری ہو جو لمحوں کو محسوس کرنا جانتے ہیں۔ایسی راتوں میں لفظ کم پڑ جاتے ہیں، اور احساسات قلم کی نوک سے بہنے لگتے ہیں۔ ایک کپ چائے ہو، نرم ہوا ہو، اور چاند کی یہ روشنی… زندگی کی سادہ خوشیوں میں سے ایک بڑی خوشی یہی ہے۔آج کی رات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کبھی کبھی تھم جانا، خاموش ہو کر فطرت کو دیکھنا، دل کو تازہ کر دیتا ہے۔ چاند، ٹھنڈی ہوا، اور رات کی خاموشی… یہ سب مل کر ایک ایسا منظر بناتے ہیں جو شاید روز نہیں ہوتا، لیکن جب بھی ہوتا ہے، دل کو چھو جاتا ہے۔










