ڈی پی او خانیوال کے تبدیلی کے دعوے اور حقائق
“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
تحریر۔۔: طاہر عباس 03038558512*
“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
آج خانیوال پولیس پر ایک سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں تھانہ کلچر میں تبدیلی کیسے ممکن ہے اور میرٹ کا واویلا کرنا بھی عبث ہے کیونکہ جب ایک انسپکٹر کے ہوتے ہوئے سب انسپکٹر کو ایس ایچ او لگائیں گے تو میرٹ کہاں سے آئے گا۔ ایس ایچ او کا عہدہ انسپکٹر یا اس سے اوپر کے رینک کے افسر کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ مانتا ہوں، اگر کسی خاص وجہ سے انسپکٹر دستیاب نہ ہو یا کسی خاص علاقے میں سب انسپکٹر کو ایس ایچ او کے فرائض سونپنے کی ضرورت ہو تو، یہ کیا جا سکتا ہے۔ سابق آئی جی پنجاب انعام غنی نے ایسے تفتیشی افسران کی حوصلہ افزائی کےلیے سی پی او ملتان آفس کے ایڈیٹوریم میں تقریب کا انعقاد کیا جس میں جن تفتیشیوں نے 302 کے مقدمات میں ملزمان کو سزائے موت کروائی اور انہیں سی سی ون اور 50 ہزار پہ انعام ایوارڈ سے نوازا گیا اور جن تفتیشی افسران نے 302 کے ملزمان کو عمر قید کروائی انہیں سی سی ون اور 25 ہزار سے نوازا گیا۔
تقریب کے اختتام پر سابق آئی جی انعام غنی نے اظہار کیا کہ کم از کم سب انسپکٹر رینک میں 10سال سروس والے سب انسپکٹرز کو ایس ایچ اوز لگایا جائے اور جن کا بطور تفتیشی افسر بھی تجربہ ہو جس کے بعد آر پی او ملتان وسیم احمد سیال صاحب نے ایک آفس آرڈر برائے ملتان ریجن جاری کیا کہ “ملتان ریجن میں جن تھانہ جات میں ایسے سب انسپکٹرز تعینات ہیں جن کی سروس 10سال سے کم ہے ان کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے اور ان کی جگہ قابل 10سال کے سروس حامل سب انسپکٹرز کو تعینات کیا جائے” اور اپنے اس آفس آرڈر پر فوری عمل درآمد بھی کروایا جس میں اس وقت خانیوال میں بھی 10سال سے کم سروس والے سب انسپکٹران کو فوری طور پر ہٹا کر ان کی جگہ معیار پر پورا اترنے والے سب انسپکٹران کو ایس ایچ اوز لگایا گیا۔
بدقسمتی کی بات ہے کہ ڈی پی او آفس خانیوال میں پسند نا پسند کا سلسلہ نہ تھم سکا جس کی وجہ سے کئی افسران نہ کہ ضلع خانیوال میں سختیاں جھیل رہے ہیں بلکہ کچھ افسران ضلع خانیوال کو چھوڑ کر دیگر اضلاع میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں۔ جن میں اختر اسلام بلوچ، بابر شہزاد کھیڑا جانبر ضلع خانیوال میں موقع نہ ملنے کی وجہ سے ملتان ضلع میں جاکر ایس ایچ اوز تعینات ہوئے اور کامیابیوں کی زینتیں طے کر رہے ہیں اور اسی طرح رائے فرحت نواز، رائے نزاکت اور حسن آفتاب کیانی ضلع وہاڑی میں جاکر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دیکھا رہے ہیں۔ اسی طرح ضلع لودھراں میں عمران سیال جوکہ خانیوال دھرتی کا سپوت ہے وہ بھی ضلع لودھراں میں بطور ایس ایچ او اپنی صلاحیتوں کا جوہر دیکھا رہے ہیں، اس کے علاوہ دیگر بھی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ جن کو خانیوال میں مناسب موقع نہ دیا تو وہ دیگر اضلاع میں جاکر بطور ایس ایچ او اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔
ان افسران کے بعد امن و امان کے قیام میں محکمہ پولیس کی عملداری کمزور رہی، اور بااثر جرائم پیشہ عناصر قانون کی دھجیاں بکھیرتے نظر آتے رہےٹ ہیں۔ آئے روز پولیس میں بھرتیاں کرنے سے پولیس کی کارکردگی دن بدن زوال پذیر ہے دو دہائی قبل پولیس کی کارکردگی کو اگر دیکھا جائے تو آج کی پولیس سے ہزار گنا بہتر تھی اب جبکہ پولیس کے پاس جدید ترین سہولیات، اسلحہ اور جرائم کی بیخ کنی کیلئے تمام سہولیات موجود ہیں پنجاب پولیس کی کارکردگی زوال پذیر کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب شاید پولیس کے اعلی افسران کے پاس بھی نہ ہو مگر پنجاب کی عوام کے پاس سوال کا جواب ضرور موجود ہے لوگ احساس محرومی اور عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔
تھانہ کلچر بدلنا ہے تو ڈی پی او تک سائل کی براہ راست رسائی آسان بنائیں۔ ایف آئی آر کا فوری اور درست دفعات کے تحت اندراج، میرٹ پر تفتیش یقینی بنائیں تو تھانہ کلچر میں تبدیلی ممکن ہے ورنہ محض دعووں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ صورتحال بد سے بدتر ہوتی چلی جائے گی۔ ڈی پی او خانیوال اسماعیل الرحمن کھاڑک صاحب کبیروالا پولیس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کےلیے کوشاں رہتے ہیں، مگر معلوم نہیں کہ کون سی لابی ہے جو ڈی پی او خانیوال کے ویژن پر عمل درآمد نہیں ہونے دیتی۔ ماضی میں ہونیوالی ڈکیتیاں چھوڑ کر موجودہ ڈی پی او خانیوال اسماعیل الرحمن کھاڑک صاحب اپنے دور میں ہونیوالی چوری اور ڈکیتیوں کا تقابلی جائزہ لیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کیا پولیس بہتری کی طرف گامزن ہے یا صرف موٹر سائیکل چوروں کو گرفتار کرنے کے علاوہ منشیات کی بھاری تعداد برآمد ہونے کی خبریں لگوا کر سب انسپکٹرز ایس ایچ اوز حضرات یہ تاثر دینے کی کوشش کریں کہ ان کی کارکردگی بہت بہتر ہے۔ ڈی پی او خانیوال اور ڈی ایس پی سرکل کبیروالا کی زیر قیادت جیسے فقرے انہوں نے زبانی رٹے ہوئے ہیں ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جو لابی ڈی پی او خانیوال کے ویژن پر عمل درآمد نہیں ہونے دیتی وہی لابی میڈیا کو بھی مکمل طور پر کنٹرول کیا ہوا ہے۔ تھانوں میں فوری طور پر انسپکٹرز اور مستند پولیس افسران کی تعیناتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سب انسپکٹروں کو فوری طور پر ایس ایچ او شپ سے ہٹایا جائے اور محکمانہ قوانین کے مطابق اہل افسران کو تھانہ جات میں تعینات کیا جائے مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے ماڈل تھانوں میں بھی سب انسپکٹرز تعینات ہیں۔
جب پولیس کا کلچر اور نیچر اس طرح کی ہو گی تو پھر انصاف اور ریلیف کیسے ملے گا۔
اگر ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ محکمہ پولیس میں بگاڑ پیدا کرنے میں تقریبا ہمارے ملک کے سیاستدانوں حکمرانوں اور دیگر برسراقتدار رہنے والی شخصیات کا عمل دخل بھی سمجھ میں آتا ہے لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس محکمہ میں بگاڑ پیدا کرنے میں پولیس بھی تقریبا پچاس فیصد شامل ہے، پولیس والوں کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس بگاڑ کو صرف اور صرف پولیس والے ہی خود درست کر سکتے ہیں۔ تھانوں میں بطور تفتیشی آفسران کی بطور ایس ایچ او تعیناتی کو ختم کرکے صرف انسپکٹر بیج کے آفسران کو تھانوں میں ایس ایچ او تعینات کرتے ہوئے سب انسپکٹرز کو صرف تفتیشی آفسران لگانے کا مطالبہ ہے تاکہ تھانوں میں تفتیشی نظام بہتر ہوسکے۔
بقول حبیب جالب…
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو










