یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش — عوامی ریلیف کا اختتام یا انتظامی مجبوری؟
تحریر: محمد زاہد مجید انور

پاکستان میں مہنگائی اور معاشی بے یقینی کے اس دور میں جب ہر طبقہ فکر حکومتی امداد اور رعایتی پیکیجز کی جانب دیکھ رہا ہے، ایسے وقت میں وفاقی حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو بند کرنے کا فیصلہ ایک نہایت اہم اور دور رس نتائج کا حامل اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز کے تمام آپریشنز کو قانونی اور شفاف طریقے سے بند کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی ادارے کے مکمل انصرام، اثاثہ جات کی تقسیم، ملازمین کی علیحدگی اور تمام واجبات کی ادائیگی کے معاملات کو حتمی شکل دے گی۔یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ ادارے کو 31 جولائی 2025 تک مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ ملازمین کو رضا کارانہ علیحدگی سکیم (Voluntary Separation Scheme – VSS) کے تحت مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا تاکہ ان کے مستقبل کو کسی حد تک تحفظ دیا جا سکے۔1971 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ ملکی سطح پر عوام کو سبسڈی پر اشیائے خورونوش فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ سسٹم متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے ریلیف کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا۔ خاص طور پر رمضان، عیدین اور دیگر مواقع پر یوٹیلیٹی سٹورز پر رعایتی نرخوں پر آٹا، چینی، گھی اور دالیں مہیا کی جاتی رہیں۔حکومتی مؤقف کے مطابق ادارے کی کارکردگی، بڑھتے ہوئے مالی خسارے، اور غیر مؤثر انتظامی ڈھانچے نے اس بندش کو ناگزیر بنا دیا۔ بارہا یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیاء کی قلت، کرپشن کی شکایات، اور ناقص مینجمنٹ سامنے آتی رہی ہے۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بجائے اس ادارے کی اصلاح اور ڈیجیٹلائزیشن کے، مکمل بندش غریب عوام سے ریلیف چھیننے کے مترادف ہےیوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کے بعد کم آمدنی والے طبقات براہِ راست مہنگائی کی زد میں آئیں گے۔ مارکیٹ میں پہلے ہی اشیاء ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ایسے میں اگر حکومت نے متبادل سبسڈی یا فلاحی پروگرام نہ دیے تو صورتحال مزید گھمبیر ہو سکتی ہےیہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کئی مشکل فیصلے کر رہی ہے۔ یوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کو بعض حلقے انہی شرائط کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ بعض ماہرین اسے ریاستی اداروں میں اصلاحات کے تناظر میں ایک مثبت مگر کٹھن قدم قرار دے رہے ہیں۔