سلطان العارفین سخی سلطان باہوؒ — فقر، عشق اور معرفت کا خورشید

تحریر: محمد زاہد مجید انور

اولیاء اللہ کی صف میں ایک ایسا روشن چراغ، جس کی روشنی آج بھی قلوب کو منور کر رہی ہے، وہ ہیں حضرت سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ کی پیدائش یکم جمادی الثانی 1039ھ (مطابق 17 جنوری 1630ء) بروز جمعرات قصبہ شورکوٹ، ضلع جھنگ (موجودہ پاکستان) میں ہوئی۔ آپ کی سیرت، تعلیمات، شاعری، کرامات اور عرفانی بصیرت نے نہ صرف تصوف کی دنیا میں انقلاب برپا کیا بلکہ آج بھی آپ کا پیغام لاکھوں دلوں میں چراغِ ہدایت روشن کر رہا ہے۔ولادت اور روحانی نسب سلطان باہو کا تعلق سید قبیلے سے تھا، لیکن تواضع کا یہ عالم کہ خود کو کبھی سید کہلوانا پسند نہ فرمایا۔ والد سلطان بازید محمد، شاہجہانی فوج میں ممتاز عہدے پر فائز، صالح، متقی اور حافظ قرآن تھے۔ والدہ بی بی راستی عارفہ کاملہ اور ولیہ باکمال تھیں، جنہیں قبل از وقت آپ کے مقام فنا فی ھو کی خبر الہاماً دی گئی اور اسی نسبت سے آپ کا اسمِ گرامی “باہو” رکھا۔
“نام باہو مادر باہو نہاد
زانکہ باہودائمی باہو نہاد”
پیدائشی ولی اور نورانی چہرہ سخی سلطان باہو بچپن سے ہی عارف باللہ تھے۔ آپ کا چہرہ اس قدر نورانی تھا کہ ہندو بھی دیکھ کر مسلمان ہو جاتے۔ رمضان المبارک میں شیرِ مادر نہ پینا اور روزے رکھنا آپ کی ولائت کی ابتدائی جھلک تھی۔ ہندو برادری نے یہاں تک مطالبہ کیا کہ آپ کے سیر کے اوقات طے کیے جائیں تاکہ وہ اپنے دین کی حفاظت کر سکیں۔مرشد کی تلاش اور بیعتِ مصطفیٰ ﷺآپ نے تیس سال تک مرشد کامل کی تلاش کی۔ پھر ایک روحانی واردات میں حضرت علیؓ کی زیارت ہوئی، جنہوں نے فرمایا کہ آپ کو بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں طلب کیا گیا ہے۔ وہاں آپ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حسنین کریمینؓ اور سیدہ فاطمہ الزہراؓ کی موجودگی میں براہِ راست نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں بیعت کا شرف حاصل ہوا۔ پھر آپ کو غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے سپرد کیا گیا۔سروری قادری سلسلہ اور فقرِ باہوآپ کا روحانی تعلق سروری قادری سلسلے سے تھا۔ آپ اس طریق کو “کامل قادری” تسلیم کرتے تھے۔ آپ کے مطابق: “ہر کہ طالب حق بود، من حاضرم ز ابتدا تا انتہا، یک دم برم”یعنی: جو کوئی حق تعالیٰ کا سچا طالب ہو، میں اسے ابتدا سے انتہا تک فوراً پہنچا سکتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ سروری قادری مرشد ایک نظر یا تصور اسمِ ذات سے ہی طالبِ مولیٰ کو مجلسِ محمدی ﷺ میں پہنچا دیتا ہے۔فقر اور مقامِ سلطان الفقر پنجم سخی سلطان باہو “سلطان الفقر پنجم” کے مرتبے پر فائز ہیں۔ آپ کی روحانی نگاہ میں یہ تاثیر تھی کہ زندہ تو زندہ، مردہ بھی فیض پاتے۔ آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے “مصطفیٰ ثانی” اور “مجتبیٰ آخر زمانی” کا خطاب عطا فرمایا۔ظاہری علم حاصل نہ کرنے کے باوجود آپ نے تقریباً 140 کتب تصنیف فرمائیں، جن میں بیشتر فارسی اور پنجابی زبان میں ہیں۔ آپ کی تصانیف علمِ لدنی کی روشن مثالیں ہیں۔ آپ کی پنجابی کافیاں آج بھی دلوں کو ہلا دیتی ہیں، جن میں “ہو” کی تکرار ذاتِ حق کی پہچان بن چکی ہے۔آپ کی ایک مشہور کرامت یہ ہے کہ ایک مایوس سید جب آپ کے پاس حاجت لے کر آیا اور آپ کو کسان کے روپ میں دیکھا تو دل برداشتہ ہو گیا۔ آپ نے اس پر جلال میں آ کر پیشاب کا ڈھیلا زمین پر مارا، اور وہ ڈھیلا جس مٹی سے ٹکرا کر گزرتا، وہ مٹی سونے میں تبدیل ہو جاتی۔ یہ آپ کی نگاہِ کیمیا کی حقیقت تھی۔ “نظر جنہاں دی کیمیا سونا کر دےوٹ قوم اتے موقوف نہیں، کیا سید کیا جٹ”آپ کا وصال یکم جمادی الثانی 1102ھ (مطابق 1 مارچ 1691ء) بروز جمعرات بوقت عصر ہوا۔ آپ کا مزار مبارک گڑھ مہاراجہ، ضلع جھنگ میں مرجع خلائق ہے۔ ہر سال جمادی الثانی کی پہلی جمعرات کو آپ کا عرس نہایت عقیدت سے منایا جاتا ہےآج بھی جب کوئی طالبِ حق آپ کے مزار کی زیارت کرتا ہے تو آنکھیں اشکبار، دل لبریز اور زبان ذکر “ھُو” سے معمور ہو جاتی ہے۔حضرت سخی سلطان باہوؒ کی حیات و تعلیمات محض ایک صوفی شاعر کی داستان نہیں بلکہ ایک کامل ولی کی معرفت، فقر، عشقِ الٰہی، اور نبوی اطاعت کا آئینہ ہیں۔ آپ کی زندگی کا پیغام آج بھی ہر سچے طالبِ مولیٰ کے لیے روشنی کا مینار ہے۔”باہو جو کوئی ذکر اللہ دا کرےاوہدے اندر پیدا نور ہو”