ٹوٹا ہوا انفراسٹرکچر، خاموش نمائندے — عوام کب تک سڑکوں پر رُلیں گے؟
تحریر: محمد زاہد مجید انور
ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اس کے گردونواح کے عوام آج کل شدید اذیت اور تکلیف سے دوچار ہیں۔ وجہ؟ سادہ سی ہے، مگر حل طلب — شہر کی تقریباً تمام مرکزی و ذیلی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ سڑکوں پر گہرے گڑھے، اکھڑی ہوئی تعمیرات، گرد و غبار اور نکاسی آب کا ناقص نظام عوام کے لیے روزانہ ایک امتحان بن چکا ہے۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ عوامی نمائندے، جنہیں ووٹ دے کر عوام نے منتخب کیا، وہی آج ان مسائل پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ عوامی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کئی بار منتخب نمائندوں کے دفاتر کے چکر لگائے، درخواستیں دیں، مسئلہ اٹھایا، لیکن کہیں کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ یہ بے حسی اس نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے، جس میں عوام کی آواز صرف انتخابات کے دنوں میں سنی جاتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی حالت اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ بچوں کو اسکول لے جانا، مریضوں کو اسپتال پہنچانا، خواتین کا بازار آنا جانا، حتیٰ کہ عام آدمی کا موٹر سائیکل یا سائیکل پر سفر کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔عوام کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے پُرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوری طور پر ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں سڑکوں کی ازسرنو تعمیر کا آغاز کیا جائے۔ ٹینڈرز، فنڈز، اور کام کی شفاف نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر اب بھی حکام بالا نے نوٹس نہ لیا، تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو سکتا ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے، اور ان کے بنیادی مسائل پر عملی اقدامات کیے جائیں، نہ کہ انہیں فائلوں میں دفن کر دیا جائے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سڑکیں صرف سڑکیں نہیں، یہ ترقی کا راستہ ہیں، اور جب راستے بند ہوں تو منزل تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔










