امن و ہم آہنگی کا استعارہ — صاحبزادہ محمد آصف معاویہ سیال

✍️ تحریر: ملک سیف اللہ صدیقی کھوکھر//تحصیل رپورٹر روزنامہ اسلام// جنرل سیکرٹری//تحصیل پریس کلب احمد پور سیال 03014324625

محرم الحرام کے دوران جب پورا ملک مذہبی حساسیت، مسلکی تناؤ اور امن و امان کے خطرات میں گھرا ہوتا ہے، ایسے میں چند شخصیات اپنے اخلاص، حکمت اور دانشمندی سے نفرتوں کی آگ بجھانے اور دلوں کو جوڑنے کا کام سرانجام دیتی ہیں۔انہی شخصیات میں ایک نمایاں نام صاحبزادہ مولانا محمد آصف معاویہ سیال کا ہے، جو نہ صرف ایک فعال سیاسی رہنما ہیں بلکہ مذہبی اور فکری حلقوں میں بھی ان کا کردار قابلِ تقلید سمجھا جاتا ہے۔

حال ہی میں ضلعی انتظامیہ جھنگ نے ایک باوقار تقریب کے دوران انہیں محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینے اور عوام میں مذہبی رواداری کا پیغام عام کرنے پر تعریفی سند اور شیلڈ سے نوازا۔
یہ اعزاز اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ احمدپورسیال، شورکوٹ اور گرد و نواح جیسے حساس علاقوں میں انہوں نے اپنا قائدانہ کردار نہایت ذمہ داری، فہم و فراست اور خلوص سے ادا کیا۔صاحبزادہ آصف معاویہ سیال کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی مذہب و سیاست میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی عملی کوششیں ہیں۔ ان کی خطابت صرف نعرہ بازی یا جذباتی نعروں تک محدود نہیں، بلکہ وہ فکری پختگی، دینی اعتدال اور معاشرتی اتحاد پر زور دیتے ہیں۔
ان کا پیغام ہمیشہ محبت، رواداری اور باہمی احترام کا حامل ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ عوام اور مختلف مسالک کے علما میں یکساں مقبول ہیں یہ اعزاز صرف ایک سرکاری تقریب کا حصہ نہیں، بلکہ عوامی اعتماد اور علاقائی قیادت کی طرف سے ان کی خدمات کا بھرپور اعتراف بھی ہے۔آج جب معاشرے میں مذہبی اور سیاسی انتہاپسندی بڑھتی جا رہی ہے، تو ایسی معتدل، فکری اور باشعور قیادت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ صاحبزادہ آصف معاویہ نے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ مذہبی قیادت اگر چاہے تو وہ فساد نہیں بلکہ اتحاد کا ذریعہ بن سکتی ہےان کی کوششیں صرف مقامی سطح تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک وسیع تر قومی ویژن کے تحت معاشرے میں مثبت تبدیلی، امن اور مذہبی یگانگت کے لیے سرگرم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی حلقے انہیں بجا طور پر قومی ہم آہنگی کا سفیر قرار دے رہے ہیں۔اس وقت پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑا چیلنج مذہبی، مسلکی اور سیاسی اختلافات کا بگاڑ ہے۔اگر صاحبزادہ آصف معاویہ سیال جیسے افراد آگے بڑھ کر قیادت کریں اور ان کی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے تو یقیناً ہمارا معاشرہ امن، برداشت اور فکری ہم آہنگی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ضلعی سطح پر دیے گئے اس اعزاز کو قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے تاکہ ایسے کرداروں کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جا سکے۔