جوائنٹ فیملی سسٹم

تحریر متین قیصرندیم

بر صغیر پاک وہند میں جوائنٹ فیملی سسٹم کا رواج ہے، والدین اور شادی شدہ بچے ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔جہاں اس سسٹم کے کچھ فوائد ہیں وہیں بہت سے نقصانات بھی ہیں۔اگر خاندان کے بزرگ سمجھ دار ہوں اور بچوں کو جوڑ کر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو مسائل کم ہوتے ہیں۔جوائنٹ فیملی میں گھر کے کام بانٹ کر کئے جاتے ہیں، یوں خواتین اور مردوں پر کام کا بوجھ کم ہو جاتا ہے، ایسے ہی اخراجات بھی کم ہوتے ہیں ۔بڑوں کی موجودگی میں بچوں کی تعلیم و تربیت میں آسانی ہوتی ہے۔ کام کرنے والے والدین بچوں کو رشتے داروں کے پاس چھوڑ کر بے فکری سے نوکری کر سکتے ہیں، آیا کا خرچہ بھی بچ جاتا ہے لیکن جہاں خاندان کے بزرگ نا سمجھی سے کام لیتے ہیں ،گھر سازشوں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔بچے کسی قسم کی تربیت کی بجائے غلط اقدار و افعال سیکھنے لگتے ہیں۔اخراجات اور ذمہ داریوں کی مناسب اور منصفانہ تقسیم نہ ہونے کے باعث لڑائی جھگڑے بڑھتے ہیں اور سب سے بڑی بات بچے کسی قریبی رشتے دار کے جسمانی استحصال کا شکار ہو کر کئی قسم کے نفسیاتی عارضوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

چونکہ ایک مسلمان کے لیے اسلام نے ہر کام میں رہنمائی کر دی ہے اور ہمارا یقین ہے کہ اسلامی طرز زندگی میں ہی ہماری بقاء و آسانی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کے ان رشتہ داروں سے تنبیہ کی ہے جو بیوی کے لئے نا محرم ہیں۔عورت کے لئے اپنے سسرال میں سے کسی کے ساتھ تنہا رہنا جائز نہیں سوائے ان کے جو اس قدر کم عمر ہوں کہ اس کو اس بات کا خوف نہ ہو کہ وہ اس کو فتنہ میں ڈالیں گے یا اس کے لالچ میں آئیں گے۔شوہر کو اپنی بیوی کو ایسی رہائش فراہم کرنا چاہیے، جو اسے نا محرم کی نظروں سے چھپائے جہاں وہ خود مختار ہو،جو اسے گرم سرد موسم سے بچائے۔شوہر کی استطاعت کے مطابقت یہ کرائے کا یا خریدا گیا ایک کمرے ، کچن باتھ روم کا اپارٹمنٹ بھی ہو سکتا ہے اور گھر بھی۔ بیوی نے نکاح نامے میں کسی بڑے گھر کی شرط لکھوائی ہو جس پر مرد راضی ہو چکا ہو۔ مرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسے اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے یا کھانے پینے پر مجبور کرے۔اگر مطلقہ بیوی کے لیے قیام و طعام واجب ہے تو اس سے بھی زیادہ مناسب ہے کہ شادی شدہ کے لیے رہائش فراہم کی جائے۔اس بنا پر شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ بیوی کو گھر کے کسی ایسے کمرے میں ٹھہرائے جس کی اپنی سہولتیں ہوں، بشرطیکہ بلوغت کو پہنچنے والے کسی غیر محرم کے ساتھ فتنہ یا خلوت نہ ہو۔ شوہر کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بیوی کو گھر میں ان کے لیے کام کرنے یا ان کے ساتھ کھانے پینے پر مجبور کرے۔ اگر وہ اسے اپنے خاندان سے بالکل الگ رہائش فراہم کرنے کے قابل ہے تو یہ بہتر ہوگا، لیکن اگر اس کے والدین بوڑھے ہیں اور انہیں اس کی ضرورت ہے اور ان کے پاس ان کی خدمت کرنے کے لیے کوئی اور نہیں ہے اور وہ واحد طریقہ ہے کہ وہ خدمت کرسکتا ہے۔ وہ ان کے ساتھ ر ہے،اس صورت میں بیوی صبر سے کام لیں اور اپنے شوہر کو خوش کرنے کی کوشش کریں اور اس کی عزت اور اس کے خاندان کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں حتی الامکان مدد کریں۔شوہر کے بارے میں ضروری ہے کہ وہ ان امور میں اس کی اطاعت کرے جو صحیح اور مناسب ہوں۔ سسرال میں سے کسی کے لیے بہو کی اجازت کے بغیر اس کے کے کمرے میں داخل ہونا جائز نہی سوائے شوہر کے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بارے میں کہ ’’دیور موت ہے‘‘، اس کا مطلب یہ ہے کہ دیور جیٹھ کے بارے میں کسی اور سے زیادہ خوف ہے اور اس سے برائی کی توقع کی جا سکتی ہے اور فتنہ زیادہ ہے۔انہیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بہو کو ان چیزوں میں سے کوئی بھی کرنے پر مجبور کریں جیسے کہ کھانا پکانا، کس طرح کپڑے پہننا یا دوسری چیزیں جیسے کام کرنا اور پڑھانا وغیرہ، جب تک کہ وہ مشورے اور حسن سلوک سے نہ ہو۔ سسرال کے لیے اس میں دخل اندازی جائز نہیں۔شوہر کی اپنے والدین سے ملاقاتیں ضرورت کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔ اس کے والدین کے ساتھ کچھ ایسا ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے ان کے بیٹے کو ان کی عیادت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے کہ بیماری وغیرہ شوہر کو اس پر توجہ دینا ہوگی۔ان کے لیے بیوی اور شوہر کے نجی معاملات میں دخل اندازی کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر وہ شوہر کو اس بات پر راضی کریں کہ وہ سیر پر نہ نکلیں اور وہ بیوی کو گھر میں رہنے کو کہے تو اپنے شوہر کی بات مانیں، صبر سے کام لیں اور ثواب حاصل کریں۔

بیوی کو اپنے خاندان سے ملنے کے لیے ان میں سے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، یہ ان کا حق نہیں ہے۔ اسے صرف اپنے شوہر سے اجازت لینا ہوگی، اور اگر وہ بیوی کو اجازت دے تو سسرال میں سے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

دوسری طرف اگر ہم والدین کی خدمت کے حوالے سے اسلام کے احکام کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شریعت نے والدین کی خدمت میں بیٹے اور بیٹی کی کوئی تخصیص نہیں رکھی یا کوئی ایسا حکم موجود ہو کہ شادی شدہ بیٹی کے اوپر سے والدین کی خدمت کا حق ختم ہو جاتا ہے۔جیسا یہ فرض بیٹے پر عائد ہے ویسا ہی بیٹی پر بھی خواہ وہ شادی شدہ ہو ۔یہ اور بات ہے کہ بیٹی اور بیٹے کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے،بیٹے کے پاس اس سعادت کو حاصل کرنے کے مواقع بیٹی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ بیٹی شادی کے بعد اپنے شوہر کی اور اپنے گھریلو حالات کی پابند ہوتی ہےاور شریعت میں اس کا لحاظ رکھا گیا ہے۔یہ خدمت ہر عورت اپنے اپنے حالات کے مطابق کرے گی ۔اگرتو وہ دوسرے ملک یا شہر میں رہتی ہے تو اس کے لیے روز روز آنا ممکن نہیں ہو گا ،وہ اپنے والدین کو فون کر سکتی ہے،اگر وہ ضرورت مندہیں تو ان کی مالی مدد کر سکتی ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ والدین کو عموماً بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں سے زیادہ جذباتی وابستگی محسوس ہوتی ہے۔تو بیٹیوں کو اپنے گھریلو حالات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئےاس حوالے سے اپنی ذمہ داری یاد رکھنا چاہیے۔
چراغ سے چراغ بدل گیا
بیٹی بہو کا گھر بدل گیا
گھر بدلہ رواج نہ بدلہ
نہ ماں بدلی نہ ساس
ہمارے معاشرے میں زیادہ تر خاندان جوائنٹ فیملی سے وابستہ ہیں خواتین کو سب سے زیادہ مسئلہ اس طرز زندگی سے ہے ۔بزرگ والدین جن کی گھر میں حیثیت ساس سسر کی ہے اصل میں سربراہ ہوتے ہیں ان کی کل وقتی مصروفیت گھر میں موجودگی ہر کام ہر معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا اور فوائد و نقصان کی اپنے تجربے اور اپنے پرانے گئے وقت کے مطابق نتائج مرتب کرنا ۔اگر خیر سے نندیں اور دیور بھی موجود ہوں توپھر پوری فرنٹ لائن فوج کے ہوتے امن و سکون کیسا؟لاڈلا دلارا پسندیدہ بھائی بیٹا شادی سے پہلے دنیا جہان کی ساری اعلی و ارفع خصوصیات کا حامل اکلوتی شخصیت ہوتا ہے ماں باپ کا فرماں بردار ،بہن بھائیوں کا چہیتا شادی کے بعد رن مرید گمراہ اور جادو کے اثر میں آجاتا ہے شادی کے بعد دنیا بدلی بھائی بدلہ چڑیل ڈائن نےقابو کرلیا ۔دیکھیں بہو کے أنے سے نندیں کام کاج چھوڑ دیتی ہیں بہو آگئی ہے ساس سسر کی طبعیت مسلسل خراب ہو جاتی ہے جیسے شاید یہ زندگی کے آخری دن گزار رہے ہوں بہو اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر نئے گھر کے طریقوں اور طرز پر غور کر رہی ہوتی ہے اس پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے اس کے اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اور بولنے پہننے پر بولیاں شروع ہو جاتی ہیں ساس اور نندیں سارے دن اشاروں کی زبان سے بہت کچھ کہنے لگ جاتی ہیں نئی نویلی بہو کو اتنے افراد میں ایڈجسٹ ہونے اور سمجھنے میں کچھ وقت درکا ہوتا ہے جو شایدہی کسی قسمت والی کو میسر آئے ۔جوائنٹ فیملی اور چھوٹا سا گھر جس میں میاں بیوی کو أپس میں بولنے کچھ کہنے کی آزادی نہ ہو پرائیویسی نہ ہو وہ اپنی مشکلیں,اپنی گھٹن اپنی پریشانیاں اور سارے دن کی روداد بھی نہ سنا سکے ۔اپنے دکھ درد اپنے جیون ساتھی کو نہ بتا سکے گھومتی أنکھیں چلتے پھرتے کردار دائیں بائیں موجود ہوں ۔وہ اگر اپنی ماں کو بہن کو اپنے احساسات بتاکر مشورہ مانگے تو مداخلت کا الزام سے زندگی اجیرن بنا دی جاتی ہے
بعض اوقات تو میاں بیوی اپنی ذاتی مسائل کو بھی ڈسکس نہی کر سکتے ۔ تعطیلات کے ایام۔میں نندون کے درجن۔بھر بچے ،گھر میں افراتفری شور شرابہ ہجوم کا ہجوم ذہنی سکون غارت مالی بوجھ اوپر سے بچوں کے لڑائی جھگڑے چیزوں کا ٹوٹنا ۔ نت نئی فرمائشیں بہو کی آزادی اور گھریلو معاملات میں خواہ مخواہ کی ٹوکا ٹوکی ساس کی بڑبڑاہٹ شام کو شکایتی پنچایت کا انعقاد ۔ازدواجی دوری ان دیکھی دیوار بن کر رشتے میں دڑار ڈال دیتی ہے ذہنی ٹنشن سرد مہری ازدواجی تعلفات کی رسی کو جلانے لگتی ہے میاں بیوی میں انجانے فاصلے ،وسوسے اور خواہشات کا خون بظاہر خوش باش مگر اندر کی دوری مرد کو گھر سے دور بے راہ روی کا شکار کر دیتی ہے اسی فسٹریشن میں خواتین سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں حیرت کی بات ہے دانا اور زیرک تجربہ کار بزرگ بھی اس صورت حال کو بھانپ ہی نہی پاتے بات لڑائی جھگڑے علیحدگی خلع طلاق پر پہنچ جاتی ہے گھر کے افراد دوست احباب رشتے دار اور بچے بھی اس ناسور کی تباہی سے انجان ہوتے ہیں اکلوتا واش روم درجن بھر افراد ۔۔۔۔بیچاری کیا کرے شرم وحیا انجانا پن اور نئے افراد کا سامنا ۔۔۔۔۔۔شوہر کو یہ بات سمجھنی چاہیے اور اس کا حل بھی نکالنا چاہیے ۔اس بات سے آگے کا سوچیں ہمارے دور میں اسطرح ہوتا تھا وقت بدل گیا افدار بدل گئے طور بدل گیے طریقے بدل گیے ۔بعض گھروں واش روم بنتا ہے صحن میں اس میں بھی بہت سے مسئلے ہیں اٹیچ واش روم وقت کی ضرورت ہے جی ہاں جوائنٹ فیملی سسٹم کے فوائد بھی ہیں بزرگ موجود ہوتے ہیں دکھ سکھ میں ان کا تجربہ کام۔آتا ہے گھر سے بے فکری ہوتی ہے ماں باپ موجود ہیں دیور موجود ہے نندیں ہیں سب رشتوں کا اپنا مقام ہے احساس ہے کردار ہے خوبصورتی ہے بہو کو گھر کا فرد سمجھیں بیٹی مانیں ۔اسکو وقت دیں رہنمائی کریں ۔گھر بسانے میں کردار ادا کریں اجاڑنے میں نہی سائباں بنیں مالی بنیں گلستاں میں پھول کھلائیں کانٹوں کو راہ سے ہٹائیں اپنے بھلے وقت کا موازنہ آج کے دور سے نہ کریں۔بیٹے کو تقسیم نہ کریں مساوات کرنے دیں متوازن میانہ روی ہی رشتوں کی خوبصورتی ہے ۔جوائنٹ سسٹم کے خوف سے ،رشتوں کے بگاڑ سے گھر برباد ہوتے ہیں خاندان آپس میں دست و گریباں ہوتے ہیں دشمنیاں بڑھتی ہیں سسٹم برا نہی ہوتا اسکو چلانے والے غلط ہوتے ہیں اپنی مرضی کا رڑلٹ چاہتے ہیں بھائی بھی محترم ۔بیٹا بھی محترم والدین بھی محترم بہنیں بھی محترم جی ہاں مگر بہو بیوی بھی تو محترم یہ بھی تو مانیں سب ٹھیک ہو گا نہ تعلیم غلط نہ رشتے غلط نہ گھر غلط صرف ہمارے رویے غلط جو تباہی کا موجب ہیں رویے قابل اصلاح بھی ہیں۔أپ کی بیٹی کسی اور گھر کی بہو بنے گی کیا أپ کا نظریہ بدلے گا جوائی اچھا ہو تو احساس رکھتا ہے خاندانی آدمی ہے بیوی کا حق دیتا ہے بیٹا یہ سب کرے تو رن مرید ۔تعویزوں کا اثر ، بہو نے ورغلالیا سسرالیوں کے اثر میں چلتا ہے دہرا معیار کیوں ؟؟؟ سوچ بدلیے رشتے خوبصورت ہو جائیں گے گھر اور گھر کا ماحول دلکس ہو جاۓ گا
*جو چہرے پہ سجاۓ رکھتے ہیں ہنسی کی کرن
نہ جانے روح میں کتنے شگاف رکھتے ہیں

محمد متین قیصر ندیم
احمد پور سیال
03006821668