آسمان قدرت اور ماں
تحریر۔ متین قیصر ندیم
ستارے گر بتا دیتے سفر کتنا کٹھن ہوگا،
پیالے شہد کے پیتے تلخ ایام سے پہلے ،
یہ جو ہم لکھتے رہتے ہیں، ہماری آپ بیتی ہے،
کہ دکھ تحریر کب ہوتے کسی الہام سے پہلے
آسمان (فارسی میں آس اور مان سے ) یا فَلَک (عربی سے ) یا گگن (سنسکرت سے ) فضاء یا خلاء کا حصّہ ہے جو کسی بھی فلکیاتی جسم کے سطح سے نظر آتا ہے۔ کئی وجوہات کی بنا پر اِس کی صحیح تعریف ممکن نہیں . زمینی آسمان، ہوا کا سورج کی روشنی کو منتشر کرنے کی وجہ سے، دِن کے وقت گہرا نیلا نظر آتا ہے۔ جبکہ رات کے وقت یہ سیاہ نظر آتا ہے کیوں کہ سورج کی روشنی نہیں ہوتی۔آسمان کے بارے امیر غریب ان پڑھ تعلیم یافتہ چھوٹے بڑے سب جانتے ہیں عام تصور یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے ہر شخص اوپر اشارہ کر کے نظر اٹھا کر آسمان والے کی عظمت کا ذکر کرتا ہے ۔بغیر ستونوں اتنی بڑی چھت أسمان کے ساتھ ساتھ اسکے بنانے والے کی عظمت اور اس پر موجود واحدہ لا شریک کی ہیبت و جلال کی گواہی دیتی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کی مقدار کا اندازہ کرنے کیلے ماں کی محبت کی دلیل دی مثال دی ماں کی ممتا پیار محبت بے مثال ہے جیسے میرا رب کا پیار بے مثال ہے آسمان کی عظمت عکس بے مثال منظر ہے اسکی بناوٹ بہترین آرٹ فنون کا مجموعہ ہے اسکا مصور نقاش انمول بے مثل ہے تعریفوں کے قابل ہے تقلید کے قابل ہے اسکے ننانوے نام صفت و قدرت کے شاہکار ہیں میرا ناقص علم آسمان قدرت اور ماں کی تکون مثلث سے یہ جان پایا کہ یہ جز۔یہ تراشے ۔پھول و خوشبو ۔چاند و چکور باالکل زندگی و موت ۔خوشی و غمی ۔راحت و الم ۔نمکین و میٹھا ۔تڑش و پیکھا کے فرق کی مصداق ضروری و اہم ہیں انسان سے اپنی سچی محبت و الفت کی تصدیق کیلے رب ذوالجلال نے ماں کے پیار کی سند دلیل دیکر دونوں رشتوں کی تقدیس ۔خالص پن اور شہد جیسی مٹھاس کو انمول کر دیا رہتی دنیا تک سچی اور خالص محبت کیلے اللہ اور ماں کی محبت آسمان کی اونچائی کی طرح حق ہے سچ ہے قدرت نے آسمان بنا کر سجا کر اٹھا کر اپنے واحدہ لا شریک ہونے کا ثبوت دیا پھر قدرت کی شناخت و پہچان کرنے اور اپنا ہونے اور قریب ہونے پیار کرنے کاپیمانہ بتانے کیلے سمجھانے کیلے ماں کا پیار باپ کا ساتھ دیا ۔رہتی دنیا تک ان کا نعم البدل نہی ہے ۔روز قیامت ماں کے نام سے اٹھا کرپہچان دیکر ماں کی عظمت پر مہر ثبت کردی جنت ماں کے قدموں میں رکھ دی اور باپ کو جنت کا دروازہ چوکھٹ قرار دے دیا ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو آسمان کی بلندیوں سے لیکر ماں کے قدموں تک سفر کو قدرت نے آزمائش سے جوڑ کر حق و باطل کی لائن کھینچ دی ۔ہدایت و گمراہی کے اصول طے کر دیے وہیں جنت و دوزخ کے پیمانےکی دنیا میں ہی نشان دہی کر دی
کار تخلیق سے پہلے کا گماں ہے مجھکو
اس کی مٹی میری مٹی میں سمائی ہوگی
تاریخ کے اوراقوں سے ،دنیا کی کتابوں سے ،شاعروں کی شاعری کے ردیف و قافیوں سے الجھ کر ،نثرکے شہ پاروں میں گم ہوکر ،افسانوں کے عنوانوں سے لیکر فلسفیوں کے الجھتی سلجھتی گھتیوں سے لپٹ کریہ جان پایا کہ کائنات کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ مگر آسمان قدرت و ماں کے تعلق کا ۔۔۔۔۔۔ذکر ہے رہے کا
وہ لوگ کس درد سے گزرے ہونگے
جن کے ہمدرد اپنے وعدوں سے مکرے ہونگے
مراسلہ محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال










