ہماری راہیں، ہماری منزل — ایک نظریاتی جدوجہد کا استعارہ

تحریر: سیف اللہ صدیقی کھوکھر

نظریاتی تحریکیں ہمیشہ الزامات، فتنوں اور سازشوں کی گرد میں گھری رہتی ہیں، مگر وہی تحریکیں تاریخ کا حصہ بنتی ہیں جو اصولوں پر قائم رہتی ہیں، کردار سے جواب دیتی ہیں اور جذبات سے نہیں بلکہ تدبر و حکمت سے فیصلے کرتی ہیں۔ایم ایس او پاکستان ایک ایسی ہی نظریاتی تحریک ہے، جو دہائیوں سے علم، امن، خدمت، کردار سازی اور قیادت کی تربیت جیسے عظیم مقاصد کے لیے مصروفِ عمل ہے۔ ایسے ادارے وقتی مخالفتوں سے نہ کبھی گمراہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی سمت متزلزل ہوتی ہے۔حالیہ دنوں میں مختلف گوشوں سے اٹھنے والی بے بنیاد آوازوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ روشنی کو دبانے کے لیے اندھیرا خود کو بڑھانے کی ناکام کوشش ضرور کرتا ہے، لیکن روشنی، روشنی ہی رہتی ہے۔ایسے وقت میں ایم ایس او پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ ارسلان کیانی صاحب کا پرعزم، متوازن اور باوقار اندازِ قیادت قابلِ صد تحسین ہے۔ وہ نہ صرف تنظیمی نظم و ضبط کے امین ہیں بلکہ نوجوان نسل کے دلوں میں نظریاتی پختگی، فکری استقلال اور اخلاقی جرات پیدا کرنے والے قائد کے طور پر ابھرے ہیں۔اسی طرح ترجمان بلال زبانی صاحب کی زبان میں خاموش وقار، تحریر میں دلیل اور اندازِ گفتگو میں ادارے کی علمی میراث جھلکتی ہے۔ وہ نہ صرف ادارے کا مؤثر ترجمان ہیں بلکہ ایک باشعور رہنما کی حیثیت سے نظریاتی صفوں کو منظم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ
ہماری راہیں متعین ہیں، ہماری منزل واضح ہے
ہم الزامات کی دھند میں راستہ کھو دینے والے نہیں
ہماری طاقت سچائی ہے، اور ہمارا سرمایہ اخلاص
ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم ایسی قیادت کے زیرِسایہ ہیں جو صرف بات نہیں کرتی، کردار سے روشنی بکھیرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی یک زبان ہو کر کہتے ہیں:
ہمیں آپ پر فخر ہے!