ڈاکٹر رانا محمد عباس اور ڈاکٹر عامر بلال کھیڑا سے ملاقات اورکہانی تنکے تنکے کی
تحریر علی امجد چوہدری
چند سال قبل تک تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور سیال میں سرجری کا تصور تک نہیں تھا یہ وہ وقت تھا جب احمد پور سیال میں عطائیت اپنے جوبن پر تھی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اکا دکا مریض ہی نظر آتے تھے اگر کسی مریض کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جانے کی تجویز دی جاتی تو وہ اپنا سا منہ بنا لیتا تھا پھر اس ہسپتال پر توجہ شروع ہوئی ڈاکٹر رانا محمد عباس وہ پہلے علاقہ پرست سرجن تھے جنہوں نے لاہور فیصل آباد ملتان کی بجائے احمد پور سیال کا انتخاب کیا اس وقت لوگوں کا خیال تھا کہ احمد پور سیال کے سرکاری ہسپتال میں کوئی سرجری کا خطرہ مول نہیں لے گا اور ڈاکٹر رانا عباس بھی جلد یہ ہسپتال چھوڑ کر ملتان یا پھر لاہور منتقل ہو جائیں گے کیونکہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے سرجن تھے جن کی دھوم مچا ہوئی تھی اور سب کو یقین تھا کہ ڈاکٹر رانا محمد عباس یہاں کبھی نہیں رکیں گے مگر یہ دونوں توقعات پوری نہیں ہوئیں ڈاکٹر عباس صاحب بھی علاقہ پرست نکلے انہوں نے ہسپتال کو خیر آباد نہیں کہا اور عوام کا سرجریز کے حوالے سے اعتماد بھی بحال ہوا تاہم انہیں دنوں ڈاکٹر رانا عباس صاحب کی خواہش تھی کہ کوئی اینتھیسیزا کا ڈاکٹر بھی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو جوائن کرنے یہ مشکل ترین ٹاسک تھا مگر یہ خلاء رنگ پور کھیڑا کے معروف کھیڑا خاندان کے ڈاکٹر عامر بلال کھیڑا نے پورا کر دیا ملتان جیسے جنوبی پنجاب میں صحت کے سب سے بڑے مرکز کو چھوڑ کر احمد پور سیال کے لیئے وقت نکالنا بلاشبہ ڈاکٹر عامر بلال کھیڑا نے بھی وسیب کی ایک زبردست قدر کی
اور یوں یہ تنکا تنکا جڑ کر ایک آشیانہ بنا
علاقہ کے دونوں سپوتوں کے ساتھ ڈاکٹر اقبال ندیم ملانہ گولڈ میڈلسٹ کے ہمراہ ملاقات
علی امجد چوہدری









