بات ظرف کی اور صاحبزادہ محمد امیر سلطان

تحریر علی امجد چوہدری

دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں یہ صاحبزادہ امیر سلطان اور رانا شہباز احمد خان کی انتخابی مہم کا شاید آخری جلسہ تھا اس کے لیئے ویگن سٹینڈ احمد پور سیال کا انتخاب کیا گیا تھا اس وقت انتخاب چار امیدواروں کے درمیان تھا صاحبزادہ امیر سلطان صائمہ اختر بھروانہ مولانا آصف معاویہ سیال اور امیر عباس خان سیال خیر انتخابی مہم کے اس آخری اور پاور شو جلسے میں رانا شہباز احمد خان کے بعد آخری خطاب صاحبزادہ امیر سلطان کا تھا دوران خطاب انہوں نے اپنے قریب ترین حریف مولانا صاحب کی طرف سے اپنے اوپر لگائے گئے کچھ الزامات کا جواب دینے کے لیئے مولانا کے حوالے سے کچھ الزامات لگائے ہی تھے کہ عین سٹیج کے سامنے سے مولانا کا ایک سپورٹر اٹھ کھڑا ہوا اور صاحبزادہ امیر سلطان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا جلسہ بدمزگی کا شکار ہو گیا الیکشن ہوئے اور صاحبزادہ امیر سلطان الیکشن جیت گئے یہ جیت کا نتیجہ لینے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج احمد پور سیال جو اس وقت ان انتخابات کے نگران تھے رزلٹ لینے کے لیئے گئے تو وہاں بھی یہی منظر دہرایا گیا اس وقت مرحوم صاحبزادہ نزیر سلطان نے انتہائی مثبت کردار ادا کیا
پھر صاحبزادگان جھنگ کے سلطان بنے میرا خیال تھا کہ اب جلسہ اور کہچہری میں صاحبزادگان سے بدتمیزی کرنے والوں کی خیر نہیں صاحبزادہ گروپ کے ایک دو لوگوں نے صاحبزادہ امیر سلطان کو یہ واقعات اور ان کے کردار کئی بار یاد کروائے مگر یہ بات ان سنی کر دی گئی اور طاقتور اقتدار میں بھی یہ غریب سے لوگ ان کے شر سے محفوظ رہے میں صاحبزادہ گروپ کا ہمیشہ سے نقاد رہا ہوں کیونکہ جھنگ کی بہت ساری محرومیوں کے یہ زمہ دار ہیں جھنگ کی عوام نے ان پر سب سے زیادہ اعتماد کیا مگر عوام کو صرف مایوسی ملی مگر اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی دو رائے نہیں ہے یہ لوگ اپنی اعلیٰ ظرفی میں بھی کوئی ثانی نہیں رکھتے اتنی طاقت رکھتے ہوئے خدا نخواستہ یہ انتقامی سیاست کرتے تو ان گنت خاندانوں کی درد سے ٹیسیں اب تک نکل رہی ہوتیں

علی امجد چوہدری