کشمیر، آرٹیکل 370 اور ہماری فکری و قومی ذمے داریاں
تحریر: سلمان احمد قریشی
کشمیر ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جو سات دہائیوں سے حل طلب ہے۔ کشمیر ایشیا کے ضمیر کا وہ زخم ہے جو ہر روز تازہ ہوتا ہے۔ لاکھوں کشمیری آج بھی اس جدوجہد میں مصروف ہیں۔اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی ضمیر، اور انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کے باوجود یہ خطہ آج بھی بھارت کے جبر کا شکار ہے۔بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی، طاقت کے زعم، اور اقلیت دشمن حکمت عملی کے تحت نہ صرف ان حقوق کو روند ڈالا، بلکہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کر کے اس جبر کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی۔ مگر یہ صرف ایک آئینی ترمیم نہیں تھی، بلکہ کشمیریوں کی شناخت، تاریخ اور مزاحمت کے خلاف ایک کھلا اعلانِ جنگ تھا۔آرٹیکل 370 بھارتی آئین کا وہ عارضی آرٹیکل تھا جو ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا۔ اس کے تحت کشمیری عوام کو بھارتی یونین کے دیگر شہریوں سے مختلف قانونی، آئینی اور انتظامی مراعات حاصل تھیں۔ اس شق کی بنیاد 1947ء کے اس مشروط الحاق پر تھی جو مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارتی قیادت کے ساتھ کیا تھا، بشرطیکہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ عوامی رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔لیکن ہوا یہ کہ بھارت نے نہ صرف رائے شماری سے انکار کیا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 370 کو کمزور کرتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ 5 اگست 2019 کو مودی سرکار نے اس آرٹیکل کو مکمل طور پر ختم کر کے کشمیر کی آئینی، سیاسی اور جغرافیائی شناخت کو مٹا دیا۔ یہ اقدام بھارت کی ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔مسئلہ کشمیر کسی دو طرفہ تنازعے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ 1948، 1949، 1951، 1957 اور بعد کی قراردادیں یہ کہتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام خود کریں گے۔ لیکن 76 سال گزر جانے کے باوجود کشمیری عوام آج بھی بھارتی قابض افواج کے سائے تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بھارت نے ہر دور میں طاقت کا استعمال کیا۔ پیلٹ گن، کرفیو، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، ہزاروں نوجوانوں کی گمشدگیاں، خواتین کی بے حرمتی، اور میڈیا پر سخت پابندیاں یہ سب اس ریاست کی فسطائی ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔برہان وانی کی شہادت ہو یا اننت ناگ کے بچے، سری نگر کی بیٹیاں ہوں یا شوپیاں کے بزرگ کشمیر کی ہر گلی، ہر درخت اور ہر پتھر اپنے خون کی کہانی سناتا ہے۔ بھارتی مظالم کے باوجود کشمیریوں کا جذبہِ آزادی آج بھی زندہ ہے۔ اور جب تک دنیا کے کسی کونے میں بھی انسانی حقوق کی بات ہوگی، کشمیر کی جدوجہد ایک زندہ استعارہ بن کر قائم رہے گی۔
اسی تناظر میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز اور شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے اشتراک سے منعقدہ قومی سیمینار محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ ایک فکری محاذ کا آغاز تھا۔ سمینار میں ممتاز صحافیوں، ماہرینِ ابلاغ، اور علمی شخصیات نے کشمیر کے حوالے سے اہم نکات پیش کیے۔
معروف تجزیہ نگار سلمان غنی نے اپنے خطاب میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کو بھارتی ریاست کی جانب سے کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کی ایک منظم سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محض آئینی نہیں بلکہ نظریاتی یلغار کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیر کی مسلم شناخت کو مٹانا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر کشمیری نوجوانوں کی مزاحمتی آوازوں کو بھارت کے لیے ایک چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ برہان وانی کی شہادت کشمیری حریت کی نئی علامت بن چکی ہے۔ سلمان غنی نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ”جب تک آپ عالمی فورمز پر کشمیر کے لیے آواز بلند نہیں کریں گے، مسئلہ صرف سرکاری بیانیوں میں دفن ہو کر رہ جائے گا۔”
سابق ڈی جی پی آر ڈاکٹر اسلم ڈوگر نے بھارتی میڈیا کی جانبداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کر رہا ہے، اور بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا اور تاریخ نویس اس بیانیہ کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ہمیں بیانیہ کی اس جنگ میں علم، تحقیق اور میڈیا کے ذریعے داخل ہونا ہوگا۔ اُن کا کہنا تھا ”جب تک ہم اپنی تاریخ، قربانیوں اور اصولی مؤقف کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش نہیں کریں گے، کشمیر کی جدوجہد محض پسِ منظر میں دھکیل دی جائے گی۔”
شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر محمد زاہد بلال نے بھارتی افواج کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم، مواصلاتی بلیک آؤٹ اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا ”یہ صرف کشمیریوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ اگر ہم خاموش رہے تو ہم بھی ظلم کے شریک بن جائیں گے۔”انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل سفارت کاری اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے کشمیر کا مقدمہ پیش کرے۔سیمینار کے صدر اور وائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڑہ پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو صرف جغرافیائی تناظر میں دیکھنا ناکافی ہے۔ یہ مسئلہ بنیادی انسانی حقوق، آزادیِ رائے، ضمیر اور فکری آزادی سے جڑا ہوا ہے۔انہوں نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ”مقبوضہ کشمیر میں ہر وہ حق سلب کر لیا گیا ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ اور عالمی قوانین دیتے ہیں۔”
سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ کشمیری عوام کا پاکستان سے الحاق محض جذباتی نہیں، تاریخی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، اور دیگر عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے پر اپنی عملی ذمہ داریاں ادا کریں۔انہوں نے 10 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ”یہ دن پاکستان کی سالمیت اور وقار کی جنگ کا نیا باب تھا، جس میں افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں۔”
سیمینار کے اختتام پر اساتذہ اور طلبہ نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دلانے کے لیے فوری، مؤثر اور عملی اقدامات کرے۔ مہمانانِ گرامی کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں، اور کشمیر کے ساتھ یومِ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔یہ سیمینار ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ صرف تقاریر، تقاریب اور قراردادیں کافی نہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے جدید سفارت کاری، ڈیجیٹل میڈیا، علمی تحقیق، اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والے مہماتی انداز اپنائیں۔ ہمیں چاہیے کہ پاکستانی میڈیا میں کشمیر پر خصوصی ٹاک شوز، ڈاکومنٹریز، اور تحقیقی پروگرام ترتیب دیے جائیں۔جامعات میں کشمیر اسٹڈیز کے مستقل شعبے قائم ہوں۔طلبہ کو بین الاقوامی فورمز پر نمائندگی دی جائے تاکہ کشمیریوں کی آواز وہاں پہنچے جہاں فیصلے ہوتے ہیں۔کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے عملی یکجہتی کے اقدامات کیے جائیں، نہ کہ صرف علامتی۔یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا یہ سیمینار اس بات کا واضح پیغام ہے کہ کشمیر صرف حکومتی پالیسی کا موضوع نہیں بلکہ علمی، ابلاغی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ ہمیں اب صرف تقریبات پر اکتفا نہیں کرنا بلکہ قومی سطح پر ایک ایسا فکری محاذ قائم کرنا ہوگا جو دنیا کو باور کرا سکے کہ کشمیر پر خاموشی دراصل ظلم کی حمایت ہے۔اگر ہم نے اپنی نسل کو یہ شعور نہ دیا کہ کشمیر ہماری روح کا حصہ ہے، تو شاید آنے والی تاریخ ہمیں معاف نہ کرے۔ آج اگر ہم نے قلم، زبان، اور دلیل سے کشمیر کا مقدمہ نہ لڑا، تو کل ہمیں بندوق اور لاشوں کے درمیان یہ سوال درپیش ہوگا کہ ہم نے کس لمحے خاموشی خریدی تھی؟










