پٹرول مافیا کا راج اور ضلعی انتظامیہ کی خاموشی

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر، گردونواح اور ضلع بھر میں پٹرول پمپ مالکان عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ نہ پیمانہ پورا ہے اور نہ ہی حکومت پنجاب کا مقرر کردہ نرخ مل رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ حکومتی ریٹ لسٹ واضح طور پر موجود ہونے کے باوجود فی لیٹر دو روپے اضافی وصول کیا جا رہا ہے، گویا عوام سے کھلے عام جیب کترنے کا کام کیا جا رہا ہے۔کم پیمانہ ایک ایسا جرم ہے جو براہ راست شہریوں کے روزمرہ بجٹ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص گاڑی یا موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلواتا ہے تو وہ قیمت کے ساتھ مقدار کی بھی توقع رکھتا ہے، مگر ہمارے ہاں پیمانہ کم اور قیمت زیادہ دینے کا چلن عام ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد پٹرول پمپ مالکان سے اٹھتا جا رہا ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس کھلی لوٹ مار پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ نہ تو باقاعدہ چیکنگ ہو رہی ہے، نہ ہی کسی کے خلاف سخت کارروائی کی خبر ملتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے انتظامیہ نے پٹرول مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہوں یا پھر یہ سب ایک ’’خاموش مفاہمت‘‘ کے تحت ہو رہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف معاشی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔ جب مہنگائی پہلے ہی آسمان کو چھو رہی ہو اور اوپر سے پٹرول جیسے بنیادی ایندھن میں ناجائز منافع خوری ہو، تو عام شہری کے پاس صرف دو ہی راستے بچتے ہیں: یا تو وہ خاموشی سے سب سہتا رہے یا پھر آواز بلند کرے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ اور متعلقہ محکمے فوری ایکشن لیں۔ پٹرول پمپوں پر پیمانے کی باقاعدہ چیکنگ، حکومتی نرخوں پر سختی سے عملدرآمد اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانے و سیلنگ کے اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ہیلپ لائن یا آن لائن شکایت کا نظام بھی فعال کیا جائے تاکہ عوام اپنی شکایات براہ راست متعلقہ حکام تک پہنچا سکیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ پٹرول کی قیمت اور مقدار دونوں ہی عوامی حق ہیں۔ اگر اس پر بھی سمجھوتہ کر لیا گیا تو پھر انصاف اور قانون کی پاسداری کا تصور محض کتابی بات رہ جائے گی۔*