کیا یہ حادثہ تھا یا ردِعمل؟ ماڈل ٹاؤن ہمک کا واقعہ
تحریر محمد زاہد مجید انور
*اسلام آباد کے علاقے ماڈل ٹاؤن ہمک میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک سوزوکی ڈرائیور نے دو موٹرسائیکل سواروں کو کچل دیا، یہاں تک کہ ایک کو گھسیٹتے ہوئے کافی فاصلے تک لے گیا۔ یہ مناظر دیکھنے والے لوگ ششدر رہ گئے اور سوال اٹھنے لگے کہ آیا یہ محض ایک حادثہ تھا یا کسی جان بوجھ کر کیے گئے اقدام کا نتیجہ گزشتہ چند ماہ میں وفاقی دارالحکومت اور اس کے مضافات میں ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شہری اپنی گاڑیاں اور قیمتی اشیاء بچانے کے لیے غیر معمولی حد تک محتاط بلکہ بعض اوقات شدید ردِعمل کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔ کچھ حلقے یہ بھی قیاس کر رہے ہیں کہ سوزوکی ڈرائیور نے یہ قدم بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خوف یا غصے کے تحت اٹھایا ہو گا۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے:اگر واقعی ڈرائیور نے جان بوجھ کر ایسا کیا، تو کیا یہ قانون ہاتھ میں لینے کا عمل ہے یا حالات کی پیدا کردہ مجبوری؟ قانون واضح ہے کہ کسی بھی جرم یا مشکوک حرکت کی اطلاع فوراً پولیس کو دی جائے، نہ کہ اپنی گاڑی کو ہتھیار بنا لیا جائے۔ ایسے اقدامات نہ صرف انسانی جان کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں بلکہ یہ معاشرتی انتشار کو بھی ہوا دیتے ہیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ پولیس کو یہ طے کرنا ہو گا کہ موٹرسائیکل سوار واقعی کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث تھے یا وہ محض اتفاق کا شکار ہوئے۔ اگر ڈرائیور قصوروار نکلا تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، اور اگر وہ اپنی یا دوسروں کی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا تو یہ ایک مختلف پہلو ہو گا جس پر الگ بحث ہونی چاہیے۔یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہےجرائم کے خوف نے عوام کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ لمحوں میں انتہائی اقدامات اٹھانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ شہری خود کو محفوظ سمجھیں اور کسی کو اپنی حفاظت کے لیے قانون ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہ پڑے۔فی الحال، ماڈل ٹاؤن ہمک کا یہ واقعہ ایک سوالیہ نشان ہے اور اس کا جواب صرف شفاف تفتیش ہی دے سکتی ہے۔*










