تاجروں کے حقوق کے محافظ چوہدری امجد علی جاوید ایم پی اے
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور

لاہور کے نواحی علاقے نَوڑ آف رینو میں ممبر کالونیز ملک عبد الوحید کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں علاقے کی تاجر برادری کے مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں شریک شخصیات میں تاجروں کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری امجد علی جاوید پیش پیش رہے۔چوہدری امجد علی جاوید نے کھلے دل سے تاجروں کے موقف کی وکالت کی اور واضح کیا کہ تاجر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اجلاس میں ایک متفقہ فیصلہ ہوا کہ ضلعی انتظامیہ، ممبران اسمبلی کے ساتھ مل کر دکانوں کے کرایوں کا ازسرِنو جائزہ لے گی۔ اس عمل میں تاجروں کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ کرایہ جات کا تعین انصاف اور سہولت کے اصولوں کے مطابق ہو۔یہ تجویز تاجروں کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جا رہی ہے کیونکہ پچھلے کئی برسوں سے غیر متوازن کرایہ جات ان کے کاروباری بوجھ میں اضافہ کر رہے تھے۔ چوہدری امجد علی جاوید کی قیادت میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اب کرایہ پالیسی متوازن اور حقیقت پر مبنی ہوگی، جس سے نہ صرف تاجروں کو ریلیف ملے گا بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی استحکام آئے گا شخصیت اور عوامی خدمات کا پس منظرچوہدری امجد علی جاوید کا شمار ان عوامی نمائندوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ عوامی مسائل کو ترجیح دیتے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل وہ مقامی سطح پر فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں متحرک رہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی بہتری، صاف پانی کی فراہمی، اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے متعدد منصوبے شروع کروائے۔اپنے سیاسی کیریئر میں وہ ہمیشہ عوام سے براہِ راست رابطے میں رہے، بازاروں، گلیوں اور دیہات کا دورہ کر کے مسائل سنتے اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات کرتے۔ ان کا دروازہ عام شہریوں کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تاجر برادری انہیں اپنا “حقوق کا محافظ” کہتی ہے۔تاجر برادری کے ایک بزرگ رکن نے اجلاس کے بعد کہا، “آج پہلی بار ہمیں لگا کہ ہمارے مسائل سنجیدگی سے سنے جا رہے ہیں۔” یہ الفاظ دراصل اس بات کا اعتراف ہیں کہ چوہدری امجد علی جاوید جیسے عوامی نمائندے ہی تاجروں کے اصل محافظ ہیں۔معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ تاجر بلا خوف و خطر اور منصفانہ شرائط پر کاروبار کر سکیں۔ امید ہے کہ اس اجلاس میں کیے گئے فیصلے عملی جامہ پہنیں گے اور تاجروں کی زندگی میں حقیقی آسانی کا آغاز ہوگا۔*