احمدپورسیال شہر میں پبلک لاٸبریری کا قیام وقت کی ضرورت ہے ڈاکٹر اقبال ندیم ملانہ گولڈ میڈلسٹ

قوموں کی ترقی کا راز تعلیم و تحقیق میں پنہاں ہے، اور تعلیم کے فروغ میں پبلک لائبریریاں (عوامی کتب خانے) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ وہ مراکز علم ہیں جہاں ہر عمر، طبقے اور شعبے کے افراد بغیر کسی تفریق کے مطالعہ کر سکتے ہیں۔
پبلک لائبریری کیا ہے؟
پبلک لائبریری ایک ایسی عوامی سہولت ہے جہاں ہر شہری کو علم، تحقیق اور مطالعے کے لیے کتب و دیگر مواد فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں داخلہ عام طور پر مفت ہوتا ہے اور ہر فرد استفادہ کر سکتا ہے، چاہے وہ طالب علم ہو، ملازم، بزرگ یا محقق۔
پبلک لائبریری کی اہمیت
علم کا مفت خزانہ: غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو قیمتی کتابیں مفت میں دستیاب ہوتی ہیں۔تحقیق و مطالعہ کا مرکز محققین، مصنفین اور طالب علموں کے لیے حوالہ جاتی کتب اور ذخیرہ علم موجود ہوتا ہے۔
معاشرتی ہم آہنگی: ہر طبقے کے لوگ ایک ہی جگہ پر علم کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، جس سے معاشرتی تفریق کم ہوتی ہے۔
تعلیم بالغاں: کئی پبلک لائبریریاں ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے خواندگی پروگرام بھی چلاتی ہیں۔
ثقافت و ادب کا فروغ: ادبی نشستیں، کتاب میلے اور مشاعرے بھی ان لائبریریوں کا حصہ ہوتے ہیں۔
جدید دور میں پبلک لائبریری
ڈیجیٹل عہد میں بھی پبلک لائبریری کی افادیت کم نہیں ہوئی۔ جدید پبلک لائبریریوں میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ای-بکس اور آڈیو بکس دستیاب ہوتی ہیں۔
آن لائن کیٹلاگ اور ای لرننگ سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔
علمی ورکشاپس اور تربیتی کورسز کا انعقاد ہوتا ہے۔
پاکستان میں پبلک لائبریریوں کی صورتِ حال
پاکستان میں پبلک لائبریریوں کی تعداد محدود ہے، اور اکثر جگہ ان کا معیار بھی مطلوبہ حد تک نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شہر، تحصیل اور حتیٰ کہ دیہات میں پبلک لائبریری قائم ہو۔
حکومت کتابوں کی فراہمی، انفراسٹرکچر اور عملے کی تربیت پر توجہ دے۔
عوام میں لائبریری سے استفادہ کا شعور اجاگر کیا جائے۔پبلک لائبریری صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی اور علمی ادارہ ہے۔ یہ فرد کو سنوارتا ہے اور قوم کی فکری بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر ہم روشن مستقبل کے خواہاں ہیں تو پبلک لائبریریوں کے قیام اور فروغ کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

ڈاکٹرمحمداقبال ندیم ملانہ (گولڈمیڈلسٹ)