بارشیں، سیلاب اور حکومتی بیانیہ

تحریر: سلمان احمد قریشی

پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ سب سے زیادہ نقصان بھی ہمیں پانی سے ہی اٹھانا پڑتا ہے۔کبھی پانی کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے اور کبھی بارشوں اور دریاؤں کی طغیانی کی شکل میں پانی ہی سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں پنجاب شدید سیلابی خطرے سے دوچار ہے۔ انڈیا کی جانب سے ہریکے بیراج پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق دریائے ستلج اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے بقول آئندہ دو دنوں میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر بڑا ریلا پہنچ سکتا ہے جس سے نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ کے بھی نشیبی علاقے متاثر ہوں گے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں سندھ طاس معاہدہ ہوا تھا۔ جس کے تحت دونوں ممالک پانی کے بہاؤ اور اس کی تقسیم کے بارے میں ایک دوسرے کو پیشگی اطلاع دینے کے پابند ہیں۔ مگر رواں برس اپریل میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل کر دیا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اگرچہ گذشتہ ہفتے بھارت نے سفارتی ذرائع سے ممکنہ سیلاب کی اطلاع پاکستان کو دی، لیکن یہ اطلاع سندھ طاس معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں بلکہ ’انسانی بنیادوں‘ پر دی گئی تھی۔
یہ حقیقت واضح ہے کہ پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی جب بھارت نے اچانک پانی چھوڑا تو پاکستان میں لاکھوں ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آ گئی، ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے اور اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ صرف 2014 میں پنجاب اور سندھ کے اضلاع میں دریاؤں کے شگاف سے 300 سے زائد اموات ہوئیں اور معیشت کو 200 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔
شدید بارشوں کے بعد پہلے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا سیلاب سے متاثر ہوئے، اب پنجاب نشانے پر ہے اور اس کے بعد سندھ کے نشیبی علاقے زیادہ خطرے میں ہیں۔ کراچی میں بارش کے بعد سڑکیں زیر آب آئیں لیکن پانی نکلتے ہی میڈیا نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے برعکس سیالکوٹ، گجرات اور لاہور جیسے اضلاع میں صورتحال خراب ہونے کے باوجود حکومت پنجاب پر کسی قسم کی سنجیدہ تنقید سامنے نہیں آئی۔ اس دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے جاپان کے دورے اور مصروفیات کو بھرپور کوریج ملی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بارشوں کے حوالے سے ایک جملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا “بارشوں کی وجہ سے رین ہے”۔
اگرچہ یہ بیان براہِ راست وزیراعلیٰ پنجاب کی زبان سے نکلا یا نہیں لیکن عوام نے اسے مزاحیہ انداز میں انہی سے منسوب کر کے بے شمار میمز بنائیں۔ بالکل اسی طرز پر جیسے طنزیہ مثال دی جاتی ہے “آج میں نے ناشتے کے ساتھ Breakfast کیا جس میں ڈبل روٹی کے ساتھ Bread، چائے کے ساتھ Tea اور انڈے کے ساتھ Egg بھی تھا۔”
یہ میمز عوام کے مزاج اور سیاسی رویے کی عکاسی کرتے ہیں کہ جہاں مین اسٹریم میڈیا حکومتی بیانیے پر تنقید سے گریز کرتا ہے وہیں سوشل میڈیا طنز و مزاح کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ یوں یہ پلیٹ فارم غیر رسمی عوامی احتساب کا کردار ادا کر رہا ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض مقامی افراد اور رپورٹرز نے دریائی مقامات کو گویا پکنک پوائنٹ بنا ڈالا ہے۔ ایک رپورٹر نے لکھا “دریائے راوی کے نظارے” لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظارے نہیں بلکہ تکلیف دہ مناظر ہیں، جن میں لوگوں کے گھر اجڑ رہے ہیں اور بستیاں ڈوب رہی ہیں۔ مگر جب صحافت تربیت کے بغیر ہو اور مقابلہ بازی و سنسنی ہی کامیابی سمجھی جائے تو پھر انسانی المیہ بھی تماشہ بن جاتا ہے۔
کچھ صحافی ایسے بھی ہیں جو محض سرکاری اعدادوشمار بیان کرکے خوش ہیں، گویا ریلیف کی کاغذی تفصیل ہی حقیقت ہو۔ حالانکہ اصل منظر نامہ ان چہروں پر لکھا جا رہا ہے جن کی زندگیاں اجڑ رہی ہیں، مگر وہ میڈیا کی خبر یا رپورٹ کا حصہ نہیں بن پاتے۔
سیلاب کی تباہ کاریاں کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان کی تاریخ اس حوالے سے سانحات سے بھری پڑی ہے۔ 1973، 1992، 2010 اور 2014 کے سیلاب ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ ہیں۔ مگر ہر بار حکومتیں وقتی ریلیف پر اکتفا کر کے مسئلے کو بھلا دیتی ہیں۔ پنجاب میں ترقی کے نام پر اربوں روپے میٹرو بس، اورنج لائن اور دیگر منصوبوں پر خرچ کیے گئے، مگر نہ آبی گزرگاہوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی اور نہ دریاؤں کے کناروں کو مضبوط کرنے پرکام ہوا۔
کالا باغ ڈیم کو ہمیشہ سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف کالا باغ ڈیم سے دریائے ستلج، راوی، چناب اور جہلم کی سیلابی کیفیت کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں ڈیمز کے ساتھ ساتھ اسپِل ویز، بیراجز، آبی ذخائر، دریاؤں کی ڈریجنگ اور نشیبی آبادیوں کی بروقت منتقلی شامل ہو۔
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی ذمہ داری وفاق اور صوبائی حکومتوں کی ہے جنہوں نے دہائیوں سے پانی کے انتظام کو ترجیح نہیں دی۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے بجٹ میں سیلابی تحفظ کے لیے خاطر خواہ رقم مختص نہیں کی جاتی۔ مقامی حکومتیں غیر فعال ہیں اور ضلعی انتظامیہ محض ہائی الرٹ جاری کرنے تک محدود رہتی ہے۔
مسئلے کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب پانی کی قومی پالیسی تشکیل دی جائے۔بڑے اور چھوٹے ڈیمز کے ساتھ ریزروائرز بنائے جائیں۔دریاؤں کی صفائی اور پشتوں کو مضبوط کیا جائے۔ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹرنگ اور پیشگی وارننگ کا نظام بہتر ہو۔
مقامی حکومتوں کو فعال بنایا جائے۔میڈیا سنسنی کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دے۔
قدرتی آفات کو محض آفات سمجھنا اور انہیں حکومتی نااہلی سے الگ کرنا خود فریبی ہے۔ جب تک پاکستان اپنے پانی کے انتظام کو سیاسی نعروں سے نکال کر عملی اقدامات پر مبنی حکمت عملی میں تبدیل نہیں کرتا، تب تک ہر سال یہی مناظر دہرائے جاتے رہیں گے۔
سیلاب محض پانی کا ریلا نہیں، یہ حکومتی غفلت اور بے حسی کا ریلا بھی ہے۔ اور اگر یہی گڈ گورننس ہے تو اس کی تعریف کرنے والے بھی اس صورتحال سے بری الذمہ قرار نہیں دیے جا سکتے۔
یہ حقیقت ہے کہ بارش کو رب کی رحمت کہا جا سکتا ہے، لیکن جب یہی بارش دریاؤں میں طغیانی اور بستیاں ڈبونے کا باعث بنے تو پھر اسے صرف رحمت قرار دینا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو جائیں، بچے کھلے آسمان تلے ٹھٹھرتے رہیں، کھڑی فصلیں تباہ ہو جائیں اور مویشی سیلاب کے پانی میں بہہ جائیں، تو کیا یہ سب بھی محض “قدرتی امتحان” کہہ کر نظرانداز کر دیا جائے؟
حکومت کی کارکردگی کا اصل معیار بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات ہیں۔ افسوس کہ ضلعی سطح پر ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی رفتار فوٹیجز اور تصاویر کے مقابلہ میں سست ہے۔ مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت کشتیوں اور ٹریکٹروں پر لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء اور خیموں کی کمی واضح ہے۔
آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا حکومت صرف بیانات اور کاغذی دعوؤں سے بری الذمہ ہو سکتی ہے؟ یا پھر وقت آگیا ہے کہ انتظامیہ عملی طور پر سیلاب متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوام حکمرانوں کے الفاظ نہیں، بلکہ ان کے اعمال یاد رکھتے ہیں۔