“تھکے ہارے راوی اپنی کہانی سنا کر رخصت ہو رہا ہے”

تحریر: طاہر عباس

“””””””””””””””‘”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””‘”””

“”””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
پنجاب کی زمینوں کی کہانی دریاؤں کے گیتوں میں چھپی ہے۔ عوام زندگی کی خوشیوں میں مگن تھے کہ دریائے راوی نے زبردست سیلاب کی صورت میں کبیروالا کو لپیٹ لیا، جس نے ہزاروں گاؤں بہا لیے اور جان و مال کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا رہا۔ قدرت کی یہ طاقت اب تھک ہار کر واپس جا رہی ہے، مگر اس کا اثر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
راوی کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے، اور کچھ دنوں میں مائی صفوراں کے راستے زخم بند ہونا شروع ہو جائیں گے۔ زخم جو کبھی ملیا تھا، اس کا پانی قدرتی طور پر لیول گھٹنے پر رک جائے گا، مگر یہ گہرا نشان صدیوں تک یاد رکھا جائے گا کہ کس طرح بےمثال نااہلی اور تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں تباہی کے قصے رقم ہوئے۔
دوسرے مرحلے میں ہیڈ بلوکی سے تقریباً 1 لاکھ 31 ہزار کیوسک پانی سدھنائی سے گزر گیا جبکہ 36 ہزار کیوسک گھگھ، درکھانہ، کوٹ اسلام، حویلی کورنگا، دادوانہ، کنڈ سرگانہ، قتال پور، سرائے سدھو پیپل مرالی، صاحب لنگرا، باقرپور اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ و جھنگ میں تباہی کی داستانیں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ یہ واقعہ کئی اداروں کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے اور بے شمار چہروں کو سامنے لایا ہے۔
راوی یہ کہتا ہے کہ جب آپ نے شاہدرہ اور ہیڈ بلوکی پر پانی کی کراسینگ 2 لاکھ کی رکھ دی، تو نیو ہیڈ پر ڈیڑھ لاکھ اور پرانے ہیڈ پر صرف ایک لاکھ کیوں؟ یہ درخواست ہے کہ پرانے ہیڈ کے چار بند دوبارہ آنے سے کھول دیے جائیں، قابضین کو نکالا جائے، نکاسو کے دروازے تیل و گریس لگا کر تیار رکھے جائیں تاکہ ضرورت کے وقت کھولے جا سکیں، اور نکاسو کے کنارے مضبوط کیے جائیں تاکہ پانی آبادیوں میں داخل نہ ہو سکے۔ کوشش کریں نکاسو کو اپنے اصلی ڈیزائن کے مطابق چناب میں ڈالیں۔
جب خلق خدا کے ڈوبنے کا خوف ہو تو یہ بات نہ سوچیں کہ میلسی اور شجاع آباد کے کینالوں کے دروازے کھلے رہیں تو مٹی بھر جائے گی، کیونکہ مٹی تو نکل جاتی ہے لیکن بربادی کی یاد ہمیشہ رہ جاتی ہے۔ راوی یہ پیغام دے کر جا رہا ہے کہ مائی صفوراں بند کو مستقل طور پر بند کرنے کا آغاز کریں اور ایسے اقدامات کریں کہ اسے دوبارہ نہ کھولنا پڑے۔ نیو ہیڈ سے کنڈ سرگانہ تک کنارے مضبوط بنائیں، اور یہ سب کچھ میرے اگلے آنے سے پہلے مکمل ہو جائے، کیونکہ اب میں ہر سال آؤں گا اور ہیڈ بلوکی پر اضافی گنجائش پیدا کرنا ہوگی، اگر ضروت پڑی تو درے بڑھا دیے جائیں، مگر اگلی بار اپنی نااہلی، کرپشن اور بددیانتی کی سزا مظلوم، غریب اور بے سہارا عوام کو نہ دیں۔
میں جا رہا ہوں، کچھ دنوں میں میرا زخم مائی صفوراں پر بند ہو جائے گا، درکھانہ اور گھگھ بار میں پانی خشک ہونے اور فصلوں کی بحالی میں وقت لگے گا۔ خدارا اپنی غلطیوں کی سزا عام آدمی کو مت دیں بلکہ ان کی مدد کریں۔ قدرت جب رنجیدہ ہوتی ہے تو انسانی لاپرواہی کسی مایہ ناز معمے سے کم نہیں۔ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اپنی زمہ داریوں کو سمجھے اور مل کر ایسی آفات سے بچاؤ کے لیے اقدامات کریں۔