قائدِاعظم محمد علی جناحؒ بابائے قوم کا روشن ورثہ
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور
*برصغیر کی تاریخ میں ایسے عظیم رہنما کم ہی پیدا ہوتے ہیں جو اپنی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور عزمِ صمیم سے اقوام کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ انہی شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ نہ صرف برصغیر پاک و ہند کے ممتاز قانون دان اور سیاستدان تھے بلکہ پاکستان کے بانی کی حیثیت سے پوری قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں جنم لینے والے محمد علی جناح ایک عام مگر دور اندیش تاجر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے۔ وہاں انہوں نے وکالت کی ڈگری حاصل کی اور واپس آکر برصغیر میں ایک کامیاب وکیل کے طور پر شہرت پائی۔ ان کے قانونی دلائل اور آئینی نکات آج بھی تاریخ میں مثال کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں محمد علی جناح نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1906ء میں انڈین نیشنل کانگریس سے کیا۔ اس وقت وہ ہندو مسلم اتحاد کے داعی سمجھے جاتے تھے اور دونوں قوموں کو یکجا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ حقیقت ان پر عیاں ہوگئی کہ ہندو اکثریت مسلمانوں کو کبھی برابری کے حقوق نہیں دے گی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبے کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنا لیا۔قائدِ اعظم کی اصولی سیاست اور ناقابلِ شکست قیادت کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت “پاکستان” وجود میں آئی۔ یہ وہ خواب تھا جسے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی قربانیوں کے خون سے حقیقت بنایا۔ قائدِ اعظم پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے اور انہوں نے ملک کی بنیاد آئین، قانون اور جمہوری اصولوں پر رکھنے کی جدوجہد جاری رکھی۔قیامِ پاکستان کے صرف ایک سال بعد، 11 ستمبر 1948ء کو یہ عظیم رہنما قوم کو داغِ مفارقت دے گئے۔ ان کی تدفین کراچی میں مزارِ قائد کے احاطے میں کی گئی جہاں آج بھی وہ پوری قوم کے لیے مرکزِ عقیدت ہیں۔محمد علی جناح کو “قائدِ اعظم” اور “بابائے قوم” کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا دیا ہوا پیغام ایمان، اتحاد اور تنظیم آج بھی پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جناح نے ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں انصاف، مساوات اور فلاحِ عامہ پر مبنی معاشرہ قائم ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ یہاں نہ کوئی مذہب، نہ کوئی لسانی و طبقاتی امتیاز کسی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔قائدِ اعظم کی زندگی ہم سب کے لیے ایک درس ہے کہ اصولوں پر ڈٹے رہنے اور محنت و جدوجہد سے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے افکار اور نظریات کی روشنی میں پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور پرامن ملک بنانے کے لیے متحد ہو جائیں۔ یقیناً قائدِ اعظمؒ کی عظمت اور خدمات ہمیشہ تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔*









