یہی ہے اصل سرمایہ، یہی ہے میراثِ علم

تحریر: سلمان احمد قریشی

قوموں کی ترقی اور زوال میں تعلیمی اداروں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارے صرف تعلیمی اسناد بانٹنے کے مراکز نہیں ہوتے بلکہ یہ وہ چراغ ہیں جن سے روشنی پھیلتی ہے، کردار بنتے ہیں اور نئی نسل کے دل و دماغ میں مقصدِ حیات جاگزین ہوتا ہے۔ مگر یہ روشنی اسی وقت پھیلتی ہے جب اداروں کے منتظمین اپنی ذمہ داری کو مشن اور عبادت سمجھ کر ادا کریں۔ گورنمنٹ گریجویٹ کالج اوکاڑہ کی حالیہ تاریخ اس کی بہترین مثال ہے۔

علی حیدر ڈوگر انتظام اور وژن کا استعارہ

پروفیسر علی حیدر ڈوگر نے جب بطور پرنسپل ادارے کی باگ ڈور سنبھالی تو انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا۔ تدریسی ماحول میں سستی، طلبہ کی غیر حاضری اور کلاسز کا غیر باقاعدہ انعقاد عام شکایات تھیں۔ مگر ڈوگر صاحب نے محض انتظامی حکم پر انحصار کرنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے ادارے میں نظم و ضبط کو بحال کیا۔
انہوں نے سب سے پہلے کلاسز کو باقاعدگی سے چلانے پر زور دیا۔ ماہانہ ٹیسٹ کا نظام متعارف کرایا تاکہ طلبہ میں سنجیدگی پیدا ہو۔ اساتذہ کو بھی ذمہ داری کا احساس دلایا کہ وہ محض رسمی لیکچر نہیں بلکہ طلبہ کی رہنمائی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طلبہ کی حاضری میں نمایاں اضافہ ہوا اور تدریسی معیار بلند ہوا۔

انفراسٹرکچر میں مثبت تبدیلیاں

یہ کامیابیاں صرف نصابی میدان تک محدود نہ رہیں۔ کالج کی پرانی عمارت جو وقت کے ساتھ اپنی رونق کھو چکی تھی، اب صفائی اور مرمت کے بعد ایک تازہ دم منظر پیش کر رہی ہے۔ کلاس رومز کی مرمت اور تزئین و آرائش نے تعلیمی ماحول میں نیا ذوق پیدا کیا۔ گراؤنڈ کی ہمواری اور غیر نصابی سرگرمیوں کی بحالی نے طلبہ کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دیا۔
آج یہ ادارہ اس تبدیلی کا مظہر ہے کہ جب قیادت مخلص ہو تو وسائل کی کمی بھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اب کوئی طالبعلم کلاس سے باہر وقت گزارتے دکھائی نہیں دیتا۔ یہ منظر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے میں علمی و اخلاقی ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔

عبدالرؤف وابستگی اور تسلسل کی علامت

ادارے کی کامیابی کا ایک دوسرا روشن باب پروفیسر عبدالرؤف ہیں، جو اس کالج کے سابق پرنسپل رہ چکے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر لوگ اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہو جاتے ہیں، مگر عبدالرؤف صاحب نے یہ ثابت کیا کہ استاد کا رشتہ درسگاہ سے تاحیات قائم رہتا ہے۔
بطور صدر ایلمینائی ایسوسی ایشن وہ آج بھی اپنے ادارے کے ساتھ عملی وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ طلبہ کی رہنمائی، مختلف تقریبات کا انعقاد اور ادارے کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ ان کی یہ وابستگی دراصل اس بات کی دلیل ہے کہ ایک سچا معلم اپنے ادارے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتا ہے۔

ماضی، حال اور مستقبل کا حسین امتزاج

یہ منظر قابلِ رشک ہے کہ آج گورنمنٹ گریجویٹ کالج اوکاڑہ میں ایک طرف موجودہ پرنسپل پروفیسر علی حیدر ڈوگر اپنی بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں سے ادارے کے حال کو سنوار رہے ہیں، اور دوسری طرف سابق پرنسپل پروفیسر عبدالرؤف اپنی وابستگی اور تجربے کے ذریعے ادارے کے ماضی کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے مستقبل کے لیے راہیں ہموار کر رہے ہیں۔

یوں یہ ادارہ ایک ایسی مثال پیش کر رہا ہے جہاں ماضی کی روایات، حال کی محنت اور مستقبل کی امید یکجا ہو کر ایک روشن تعلیمی تاریخ رقم کر رہی ہیں۔

چراغ سے چراغ جلتا رہا تو روشنی بڑھتی گئی
یہی ہے اصل سرمایہ، یہی ہے میراثِ علم

گورنمنٹ گریجویٹ کالج اوکاڑہ کی موجودہ حالت اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ اگر قیادت مخلص ہو، وژن واضح ہو اور محنت کو شعار بنایا جائے تو تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ پروفیسر علی حیدر ڈوگر کی انتظامی صلاحیتیں اور پروفیسر عبدالرؤف کی دائمی وابستگی اس ادارے کے لیے دو قیمتی اثاثے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات دراصل اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ ایک استاد محض درس دینے والا نہیں بلکہ ایک معمار ہے جو نسلوں کو سنوارتا ہے اور ایک ایسا چراغ ہے جس کی روشنی صدیوں تک قائم رہتی ہے۔