تین روزہ ختم نبوت کورس اور ہماری ذمہ داریاں
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور
*عقیدۂ ختم نبوت اسلام کی اساس اور ایمان کا بنیادی ستون ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف ہمارے دینی تشخص کی پہچان ہے بلکہ اُمت مسلمہ کے ایمان کی سلامتی کا ضامن بھی ہے۔ قرآن و سنت میں عقیدۂ ختم نبوت کی بے شمار دلائل موجود ہیں جنہیں علماء کرام نے ہمیشہ اپنے وعظ و نصائح میں اجاگر کیا ہے۔ آج کے دورِ فتن میں اس عقیدے کو مزید اجاگر کرنے اور نئی نسل کو اس کے فہم و شعور سے بہرہ مند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اسی مقصد کے پیش نظر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جامعہ مدنیہ حنفیہ مرکز ختم نبوت بیرون غلہ منڈی کے زیر اہتمام 24، 25 اور 26 ستمبر کو تین روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہو رہا ہے۔ یہ محض ایک دینی اجتماع نہیں بلکہ ایک ایسی تربیتی نشست ہے جس کے ذریعے عقیدۂ ختم نبوت کی فضیلت، حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ظہور امام مہدی علیہ رضوان جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی جائے گی۔اس عظیم الشان کورس کی صدارت جامعہ مدنیہ حنفیہ مرکز ختم نبوت کے خادم اور شہر کے جید عالم دین حضرت مولانا مجیب الرحمٰن لدھیانوی فرمائیں گے۔ پروگرام کے دوران 25 ستمبر کو مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا منیر احمد علوی نائب امیر شبان ختم نبوت خصوصی خطاب کریں گے جبکہ 26 ستمبر کو پیر طریقت و رہبر شریعت حضرت مولانا سید محمد ذکریا شاہ اپنے روح پرور بیان سے شرکاء کو مستفید کریں گے۔یہ حقیقت ہے کہ ایسے اجتماعات ہمارے معاشرے میں ایمان کی تازگی اور دین سے تعلق کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ختم نبوت کے پیغام کو عام کرنا اور نئی نسل تک پہنچانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ علماء کرام کی کثیر تعداد میں شرکت اور عوام الناس کی بھرپور حاضری اس بات کی دلیل ہے کہ امت مسلمہ اب بھی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے یکجا ہے اور اس کے دفاع کو اپنا دینی فریضہ سمجھتی ہے۔ہمیں چاہیے کہ نہ صرف ان پروگراموں میں خود شریک ہوں بلکہ نئی نسل کو بھی اس فکری اور روحانی سرمائے سے فیضیاب کریں۔ عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت دراصل ایمان کی حفاظت ہے، اور ایمان ہی انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔اللّٰہ تعالیٰ ہمیں عقیدہ ختم نبوت پر استقامت عطا فرمائے، ایمان کی سلامتی نصیب کرے اور قیامت کے دن تاجدارِ ختم نبوت ﷺ کی شفاعت سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔ختم نبوت زندہ باد! ناموس رسالت ﷺ پر جان بھی قربان!*






