شہادت کی قیمت اور معاشرتی ذمہ داریاں
تحریر۔ محمد زاہد مجید انور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ
*کل کا دن ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک گاؤں چک 380 ج ب کے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ فیصل آباد ٹریفک پولیس کا جوان اہلکار ثاقب ندیم بنوں کے کینٹ ایریا میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا۔ سفاک قاتلوں نے نوجوان وارڈن کو سر پر گولی مار کر موقع پر ہی زندگی سے محروم کر دیا۔ ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آئی کہ دہشت گردی اور جرائم کی اس اندھی لہر نے کتنے ہی گھروں کے چراغ گل کیے ہیں اور کتنے خواب ادھورے چھوڑ دیے ہیں۔ثاقب ندیم، جو اپنے فرضِ منصبی کے ساتھ ساتھ بنوں میں روزی روٹی کے لیے چکن سپلائی کا کام بھی کرتا تھا، اپنے خاندان کے لیے سہارا تھا۔ یہ وہی محنت کش طبقہ ہے جو دن رات دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے مشقت کرتا ہے اور ملک کی سڑکوں پر قانون کے نفاذ میں بھی شریک رہتا ہے۔ اس کا قتل دراصل ایک پورے خاندان کو اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔مرحوم کی نماز جنازہ آج بروز سوموار صبح نو بجے ان کے آبائی گاؤں چک 380 ج ب ٹاہلی میں ادا کی جائے گی۔ میاں محمد شعیب ایڈووکیٹ کے مطابق جنازے میں اہلِ علاقہ سمیت ہر وہ شخص شریک ہوگا جس کے دل میں انصاف، امن اور بھائی چارے کا درد زندہ ہے۔ یہ لمحہ ہمارے لیے اجتماعی سوچ کا متقاضی ہے کہ ہم کب تک اپنے نیک دل اور محنتی جوانوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟یہ واقعہ صرف ایک خاندان یا ایک گاؤں کا غم نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات کی بیخ کنی کے لیے سخت اقدامات کریں، قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں اور ایسے جوانوں کے خاندانوں کو مکمل تحفظ اور سہارا دیں تاکہ ان کے بچے محرومیوں کا شکار نہ ہوں۔آج اگر ہم نے ان قربانیوں کو صرف چند آنسو بہا کر بھلا دیا تو یہ ناانصافی ہوگی۔ ثاقب ندیم جیسے شہداء کی یاد ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ امن، تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے لیے جان دینے والے اصل ہیرو ہوتے ہیں۔ ہمیں ان کی قربانیوں کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، ورنہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ ہم نے اپنے ہیروز کے خون کی حفاظت کیوں نہ کی۔اللہ تعالیٰ مرحوم ثاقب ندیم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین ثم آمین۔*









