چوہدری محمد رمضان پرویزؒ عوامی خدمت کی عظیم شخصیات
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء، سابق چیئرمین نارکوٹکس کنٹرول کمیٹی پنجاب اور علاقہ رجانہ کے معروف سینئر سیاستدان چوہدری محمد رمضان پرویز مرحوم کی آج دوسری برسی ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف عوامی خدمت رہا، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ انہیں نہایت محبت اور عزت سے یاد کرتے ہیں۔چوہدری محمد رمضان پرویزؒ نے اپنے حلقے کے عوام کی بنیادی ضروریات کو اولین ترجیح دی۔ انہوں نے ہر یونین کونسل کے گاؤں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی فلٹر پلانٹس لگوائے۔ عوام کے علاج معالجہ کے لیے ان کی کاوشوں سے قائم ہونے والا رجانہ فاؤنڈیشن ہسپتال آج بھی دردمند انسانیت کے لیے مسیحائی کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔مرحوم نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی ترقیاتی منصوبے مکمل کروائے۔ خاص طور پر غریب اور مستحق افراد کے لیے رہائشی سہولتیں فراہم کرنے کا ان کا تین مرحلوں پر مشتمل منصوبہ قابل ذکر ہے۔ ان کے نزدیک سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ خدمتِ خلق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کسی بھی قدرتی آفت یا حادثے کی صورت میں وہ سب سے پہلے متاثرہ علاقوں میں پہنچتے اور مسائل کے فوری حل کے لیے نمایاں کردار ادا کرتے۔ان کے حلقے کی سیاسی و سماجی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ایک درویش صفت اور عوام دوست شخصیت تھے۔ ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے حلقہ رجانہ کی دو اور عظیم شخصیات کا ذکر بھی لازم ہے۔ سابق چیئرمین رجانہ چوہدری شبیر احمد ننھا مرحوم جنہوں نے عوامی خدمت کی اپنی مثال قائم کی، اور چوہدری نوید عالم جنہیں اللہ تعالیٰ صحت و تندرستی اور لمبی عمر عطا فرمائے۔چوہدری محمد رمضان پرویزؒ کی دوسری برسی پر یہ اعتراف کرنا ناگزیر ہے کہ ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ وہ بلاشبہ خدمتِ خلق اور ایثار و قربانی کا پیکر تھے۔ ان کی یاد ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہے گی۔دعائیہ کلمات اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ چوہدری محمد رمضان پرویز مرحوم کی قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کی نیکیاں ہمیشہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنیں۔ آمین یا رب العالمین۔اہلِ خانہ اور عوام کے نام پیغام چوہدری محمد رمضان پرویز مرحوم کے اہلِ خانہ کے لیے یہ لمحہ باعثِ فخر ہے کہ ان کے بزرگ کو عوام آج بھی خلوصِ دل سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے ورثاء کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ مرحوم کے مشن کو جاری رکھیں، کیونکہ خدمتِ خلق ہی اصل زندگی ہے۔ عوام الناس کے لیے بھی یہی نصیحت ہے کہ وہ ایسے محسنوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے معاشرے میں محبت، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ یہی مرحوم کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔*









