اہلاً و سہلاً مرحباً۔۔۔ وطن واپسی پر والہانہ استقبال

تحریر: محمد زاہد مجید انور

اہلاً و سہلاً، مرحباً۔۔۔ مرحباً۔۔۔ مرحباً!
*یہ صدائیں اس وقت ملتان ایئرپورٹ پر گونج اٹھیں جب ٹوبہ ٹیک سنگھ کی عظیم روحانی و علمی شخصیت، فخر و بلبلِ ٹوبہ ٹیک سنگھ، صدر و مہتمم دارالعلوم مہریہ رضویہ (رجسٹرڈ)، خطیبِ اعظم جامع مسجد گلزارِ مدینہ، ریلوے اسٹیشن ٹوبہ ٹیک سنگھ، جناب صاحبزادہ قاری محمد احمد فیض گولڑوی صاحب اپنے فرزندِ ارجمند صاحبزادہ حافظ محمد عبیداللّٰہ بلال چشتی مہروی کے ہمراہ عمرہ شریف کی سعادت حاصل کرنے کے بعد وطنِ عزیز پاکستان پہنچے۔یہ لمحہ خوشی، سعادت اور عقیدت کا حسین امتزاج تھا۔ قاری محمد احمد فیض گولڑوی صاحب کی زندگی کا ہر گوشہ علم، دینی خدمت اور عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو سے معطر ہے۔ ان کی زبانِ خطابت سے اٹھنے والی صدائیں صرف ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی نہیں بلکہ گردونواح کے قلوب و اذہان کو بھی منور کرتی ہیں۔ وطن واپسی پر ایئرپورٹ پر ہونے والا والہانہ استقبال نہ صرف ان کی شخصیت سے عوامی محبت کا مظہر تھا بلکہ یہ روحانی وابستگی کا عملی اظہار بھی تھا۔صاحبزادہ حافظ محمد عبیداللّٰہ بلال چشتی مہروی نوجوان نسل کے لیے ایک تابناک مثال ہیں۔ دینی تعلیم، قرآنِ کریم سے گہری وابستگی اور بزرگوں کے علمی و روحانی ورثے کے وارث ہونے کے ساتھ ساتھ آپ نے عمرہ کی سعادت حاصل کر کے اپنے قلوب و اذہان کو مزید نورِ ایمانی سے جلا بخشی۔ ان کی موجودگی مستقبل کے لیے امید اور تسلسل کی ضمانت ہے۔عمرہ کی سعادت درحقیقت ایک عظیم روحانی سفر ہے۔ خانہ کعبہ کی زیارت اور روضہ رسول ﷺ کی حاضری سے دلوں کو جو سکون اور نگاہوں کو جو نور نصیب ہوتا ہے، اس کا بیان ممکن نہیں۔ یہ سعادت قاری محمد احمد فیض گولڑوی اور ان کے فرزندِ ارجمند کے لیے ایک ایسا سرمایہ ہے جو آنے والے دنوں میں ان کی تبلیغی و دینی خدمات کو مزید برکت اور قبولیت عطا کرے گا۔ایئرپورٹ پر مریدین، شاگردان، دوستوں اور عقیدت مندوں کا جمِ غفیر ان کا منتظر تھا۔ خوشیوں کے نعرے، والہانہ عقیدت کے اظہار اور پھولوں کی پتیاں اس منظر کو یادگار بنا رہی تھیں۔ لوگ محبت بھری نگاہوں سے اپنے محبوب رہنما کو دیکھ رہے تھے اور دل کی گہرائیوں سے دعائیں دے رہے تھے۔یہ استقبال دراصل اس حقیقت کا غماز ہے کہ دینی رہنماؤں کی محبت عوام کے دلوں میں کس قدر رچی بسی ہے۔ قاری صاحب اور ان کے خاندان کی خدمات نے ایک ایسی رشتہ داری قائم کر دی ہے جو محض رسمی نہیں بلکہ دلوں کے اندر اتر کر رُوح کو سیراب کرتی ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قاری محمد احمد فیض گولڑوی اور صاحبزادہ حافظ محمد عبیداللّٰہ بلال چشتی مہروی کی عمرہ کی سعادت اور وطن واپسی کا یہ لمحہ نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری علمی و دینی برادری کے لیے خوشی و سعادت کا لمحہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت انہیں صحت، درازیٔ عمر اور مزید دینی و روحانی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔*