ناجائز تجاوزات: قانون کی عملداری اور عوامی ذمہ داری

کالم نگار: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر پیرا فورس، میڈم صدف ارشاد نے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناجائز تجاوزات کسی بھی طور قانون و قواعد کے مطابق درست نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ زمین یا سڑک پر قبضہ صرف قانون شکنی نہیں بلکہ سماجی بدانتظامی کی بھی ایک شکل ہے جس کا خمیازہ بالآخر پوری عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔میڈم صدف ارشاد نے اپنے جاری کردہ نوٹس میں تحریر کیا ہے کہ متعلقہ مالکان اپنی ملکیت کے گرد قائم ناجائز تجاوزات کو فوری طور پر ختم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوٹس کے اجرا کی تاریخ سے سات دن کے اندر اندر ہر قسم کی غیر قانونی تعمیرات یا قبضہ جات اپنی ذاتی ذمہ داری پر ہٹائے جائیں۔ بصورت دیگر مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بلاتاخیر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کارروائی میں زبردستی تجاوزات کا خاتمہ، اخراجات کی وصولی، مالک یا قابض افراد پر جرمانے اور متعلقہ قوانین کے تحت سزائیں سب شامل ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں کسی بھی شخص کا کوئی عذر یا وضاحت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ شہری سہولیات کی فراہمی اور معاشرتی توازن کو قائم رکھنا ہے۔ناجائز تجاوزات کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو ہوتا ہے۔ سڑکیں تنگ ہو جاتی ہیں، پیدل چلنے والوں کو مشکلات پیش آتی ہیں اور ٹریفک کے مسائل بڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے سختی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی مفاد کو کسی فرد یا گروہ کے ذاتی فائدے پر قربان نہ کیا جائے۔یہ وقت ہے کہ ہم سب بحیثیت شہری اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ تجاوزات ختم کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کو اپنی زمین، دکان یا مکان کے اردگرد جائز و ناجائز کی تمیز کرنی ہوگی۔ اگر ہر فرد قانون پر عمل کرے تو نہ صرف ہمارے شہر صاف ستھرے اور پرسکون ہو سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ماحول بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔عوامی اپیل ہم سب شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنی زمینوں اور دکانوں کے گرد موجود ناجائز تجاوزات کو ازخود ہٹا دیں تاکہ قانون کو سختی استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ یاد رکھیں کہ تجاوزات ختم کرنا صرف حکومت کی مدد نہیں بلکہ آپ کے اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔*