’’انگلی کاٹ دوں گی‘‘ سیاست نہیں، خوف کی زبان
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور
*جب کسی عوامی نمائندے کی زبان سے یہ الفاظ سننے کو ملیں کہ ’’پنجاب کی طرف جو انگلی اُٹھے گی، میں اُنگلی کاٹ دوں گی‘‘ تو یہ محض ایک جذباتی جملہ نہیں، بلکہ اقتدار کے اندر چھپی ذہنیت کا آئینہ ہے۔ یہ دراصل طاقت کا وہ دکھاوا ہے جو ڈر اور دھمکی کے ذریعے لوگوں کو خاموش کرانے کی کوشش کرتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا سیاست کا مقصد خوف دلانا ہے یا خدمت کرنا؟ سیاست کا اصل سبق عوامی اعتماد جیتنا، جوابدہ رہنا اور مسائل کے حل کے لیے دن رات محنت کرنا ہے۔ دھمکیاں وقتی اثر تو ڈال سکتی ہیں، مگر یہ اثر کبھی پائیدار نہیں ہوتا۔اقتدار جب خود کو بالا تر سمجھ لیتا ہے تو وہ عوام کے درد اور مسائل سے کٹنے لگتا ہے۔ حقیقی طاقت یہ نہیں کہ آپ مخالف کی آواز دبا دیں بلکہ اصل قوت اس میں ہے کہ آپ بھوک سے نڈھال لوگوں کے لیے روزگار پیدا کریں، سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو چھت فراہم کریں، اور شہروں کو صفائی و بنیادی سہولیات کے ساتھ بہتر زندگی دیں۔اگر کسی بڑے انسانی اور معاشی بحران کے بعد عوام سوال اٹھائیں کہ ہمیں امداد کیوں نہیں ملی، بھوک کیوں ختم نہیں ہوئی، یا ہمارے بچے تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے کیوں محروم ہیں، تو یہ سوال بغاوت نہیں بلکہ آزادیٔ اظہار کا حق ہے۔ عوام کے سوال دبانے کی کوشش دراصل ان کے سیاسی شعور کو ختم کرنے کی سازش ہے، جو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔قیادت کا اصل معیار یہ ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے، ان کے دکھ درد کو سمجھا جائے اور تنقید کو اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ جو قیادت صرف خوف اور دھمکی کے ہتھکنڈوں پر یقین رکھتی ہے، وہ دیرپا استحکام نہیں لا سکتی۔اگر آپ واقعی قوم کی رہنمائی چاہتے ہیں تو عوام کے کان بند کرنے کے بجائے اپنے کان کھولیں۔ یاد رکھیں! یہی دھمکیاں ایک دن آپ کی سیاسی موت کا سبب بن سکتی ہیں۔ اقتدار خدمت کے لیے ہوتا ہے، خوف کی مشقت کے لیے نہیں۔ آنے والا وقت فیصلہ کرے گا کہ حکمرانوں نے عوام کی فلاح کو ترجیح دی یا ان کی آواز دبانے کی کوشش کی۔تاریخ کبھی کسی پر مہربان نہیں رہتی۔ وہ ہمیشہ عوام کے حق میں فیصلہ کرتی ہے، اور اس کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔*









