خدمت، کردار اور شفافیت کا سفر

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*شہر کی معروف سیاسی و سماجی اور کاروباری شخصیت چوہدری انور مانگٹ نے حالیہ دنوں ایک گفتگو میں جس انداز سے وکلا برادری کو مخاطب کیا، اس نے دلوں کو چھو لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امیدوار برائے ممبر پنجاب بار کونسل، سیٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ، چوہدری احتشام انور رائے ایڈووکیٹ نے اپنے عملی سفر کا آغاز خدمت، ایمانداری اور حق کی آواز بلند کرنے سے کیا تھا اور آج بھی ان کا یہی مشن ہے۔چوہدری انور مانگٹ کے الفاظ میں وکلا برادری کا ایک ایک ووٹ محض ایک امیدوار کی کامیابی نہیں بلکہ وکلا کے حق، ان کے وقار اور ان کی عزت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ بات کسی بھی باشعور شخص کے لیے باعثِ غور ہے کہ ووٹ صرف فرد کے لیے نہیں بلکہ پورے ادارے اور برادری کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔وکلا کی فلاح و بہبود اور بار کے ادارے کی مضبوطی کے حوالے سے چوہدری احتشام انور رائے ایڈووکیٹ کی جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ ہمیشہ اصلاحات اور بہتری کے عمل کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جدوجہد کو وکلا برادری ایک روشن مستقبل کی ضمانت سمجھتی ہے۔چوہدری انور مانگٹ نے بالکل درست کہا کہ اس بار کے انتخاب میں ووٹ صرف خدمت کو، کردار کو اور شفافیت کی عادت کو دینا چاہیے۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو ایک سچے لیڈر کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ احتشام انور رائے ایڈووکیٹ کی شخصیت انہی خوبیوں کی آئینہ دار ہے۔آخر میں انہوں نے وکلا برادری سے نہایت محتممانہ اپیل کی کہ وہ پنجاب بار کونسل سیٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لیے چوہدری احتشام انور رائے ایڈووکیٹ کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں تاکہ وکلا کے حقوق کے تحفظ اور ان کے وقار کی بحالی کی جدوجہد مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔یہ وقت دراصل انتخابی مہم کا نہیں بلکہ خدمت کے تسلسل کو جاری رکھنے کا ہے۔ اور جب ووٹ کی طاقت خدمت، کردار اور شفافیت کو ملتی ہے تو نہ صرف ادارے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی امید کے دروازے کھلتے ہیں*