انکھیں، کان، زبان کے بغیر زندگی گزر جاتی ہےدماغ کے بغیر نہیں
*لیکن پاکستانی بغیر دماغ کے ہی
تحریر ! سید شاکر علی شاہ
امریکہ اور اسرائیل کو دو ریاستیں سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں امریکہ اسرائیل کا پالتو سانپ ہے جسے دودھ پلانے اور چند کتوں کو ہڈیاں ڈالنے کے پیسے بھی ہم ادا کرتے ہیں
پاکستان میں پچھلے 50 سال سے انے والے حکمرانوں نے دین اسلام اور پاکستان کو اپنی لالچ کی بھینٹ چڑھایا ہوا ہے ہم تقریبا 50 سال سے ہر چیز اسرائیل کی خرید کر سارا پیسہ اسرائیل کو پہنچاتے ا رہے ہیں اسرائیل وہی پیسہ امریکن بینکوں میں رکھواتا ہے اور پھر ہمارے سیاست دان پاکستان کی مختلف چیزوں کو گروی رکھ کر کبھی ائی ایم ایف معاہدہ اور کبھی ورلڈ بینک سے معاہدے کر کے قرضے لیتے ہیں اور بے وقوف قوم کو کہتے ہیں الحمدللہ اس بار ہم قرضے کی رقم دگنی لے ائے ہیں اور ہم ذہنی بیمار بھی چھاتی چوڑی کر کے قرضہ ملنے کی مٹھائیاں بانٹتے ہیں
،اب سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے معاہدے ہم ڈالروں کی خوشیاں منا رہے ہیں لیکن اس کے پیچھے ایران اور افغانستان کی تباہی کے کیا راز چھپے ہیں اس کو جانے بغیر ہم معاہدے کا کریڈٹ شہباز شریف کو دے رہے ہیں پس منظر تو جیت اسرائیل کی ہوئی ہے جو گھر میں گھس کر مارنے کی تیاری کر رہا ہے کیونکہ پاکستان کے مذہبی حلقوں نے اسرائیل کو ماننے یا نہ ماننے کے چکر میں بے وقوف بنایا ہوا ہے
انڈیا اسرائیل اور امریکہ کی مدد سے کشمیر میں اج تک مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے ؟
برما میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و ستم ہوا وہ پوری دنیا نے دیکھا پر ہم نے نہیں دیکھا ؟
مسلمانوں جب اسرائیل نے بیت المقدس پر حملہ کیا اور قبضہ کیا جب اس نے لاکھوں فلسطینیوں کے گھر اجاڑ دیے سینکڑوں فلسطینی مسلمانوں کو روزانہ شہید کر رہا ہے اور ہم خاموشی سے اس کے ظلم کو دیکھ رہے ہیں کیا اسے تسلیم کرنا نہیں کہتے ؟ظلم دیکھ کر خاموش رہنے کو بھی طاقت تسلیم کرنا کہتے ہیں
میں سمجھتا ہوں ہم دنیا کی بہترین فوج اور جذبہ ایمان رکھنے کے باوجود یہود نصاری کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پالسیاں بھی اپنائے ہوئے ہیں
سب سے پہلے انہوں نے ہمیں مذہبی طور پر کمزور کیا اج ہم اس کافر کا مقابلہ کرنے کی بجائے ہم فرقوں کی صورت میں ایک دوسرے کو کافر بھی کہہ رہے ہیں
دونوں طرف سے ایک دوسرے کو کافر بھی کہتے ہیں
اور دونوں طرف سے مرنے والوں کو شہادتوں کا رتبہ بھی دیے جا رہے ہیں










