سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارقؒ عقیدہ، سیاست اور شہادت کی داستان*

*تحریر: محمد زاہد مجید انور*

*آج ہم سے بچھڑے 22سال بیت گئے مرحوم میرے والد حاجی عبد المجید انور نمائندہ روزنامہ جنگ اور جیو نیوز کے قریبی ساتھی تھے جب بھی وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ آتے تو والد صاحب کے ساتھ ملنے کے بغیر نہیں جاتے تھے،تحصیل چیچہ وطنی کے نواحی گاؤں 111/7R کی زرخیز مٹی نے کئی نمایاں شخصیات کو جنم دیا، انہی میں سے ایک نام مولانا اعظم طارق کا ہے۔ وہ راجپوت منج خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے دارالعلوم ربانیہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے حاصل کی، جب کہ دینی علوم میں مزید مہارت کے لیے مدرسہ تجوید القرآن چیچہ وطنی اور جامعہ عربیہ نعمانیہ چنیوٹ سے وابستہ رہے۔ 1984ء میں انہوں نے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے دورہ حدیث مکمل کیا اور بعد ازاں وفاق المدارس سے ایم اے عربی و اسلامیات کی ڈگریاں حاصل کیں۔تعلیمی سفر مکمل ہونے کے بعد وہ جامعہ محمودیہ کراچی میں صدر مدرس اور ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے اور جامع مسجد صدیق اکبر نارتھ کراچی کے خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی خطابت میں اثر، الفاظ میں جوش اور لہجے میں ایک مخصوص دینی رنگ نمایاں تھا۔1985ء کے اواخر میں جھنگ میں جب انجمن سپاہ صحابہ کے قیام کو چند ماہ گزرے تھے، تو مولانا اعظم طارق بھی اس تحریک کا حصہ بنے۔ انہوں نے کراچی میں جماعت کی تنظیم نو کی اور پہلے کراچی سنٹرل اور بعد ازاں کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔ 1989ء میں قائد حق نواز جھنگویؒ نے انہیں صوبہ سندھ کا سیکریٹری جنرل نامزد کیا۔حق نواز جھنگوی کی شہادت کے بعد وہ سپاہ صحابہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور پھر نائب سرپرست اعلیٰ بنے۔ اس موقع پر انہوں نے کراچی چھوڑ کر جھنگ میں قیام اختیار کیا، جہاں انہیں مسجد حق نواز جھنگوی کا خطیب مقرر کیا گیا۔مولانا اعظم طارق کا سیاسی ظہور اس وقت نمایاں ہوا جب انہوں نے جھنگ سے قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب جیتا۔ یہ نشست ایثار القاسمی کے قتل کے باعث خالی ہوئی تھی، جس پر انہوں نے سپاہ صحابہ کے روایتی مخالف شیخ خاندان کے امیدوار شیخ یوسف کو شکست دی۔1996ء میں لاہور سیشن کورٹ میں بم دھماکے کے نتیجے میں ضیاء الرحمٰن فاروقی کی شہادت کے بعد مولانا اعظم طارق سپاہ صحابہ کے سرپرست اعلیٰ بنے۔ انہیں بعد ازاں ایس ایس پی اشرف مارتھ قتل کیس میں گرفتار کر لیا گیا اور کچھ عرصہ جیل میں گزارا۔1997ء کے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کی نشست تو ہار گئے، تاہم صوبائی اسمبلی کی نشست چند ووٹوں کے فرق سے جیتنے میں کامیاب رہے۔ بعد ازاں ایک بار پھر جیل میں قید ہونے کے باوجود وہ جھنگ شہر کی قومی اسمبلی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے۔رہائی کے بعد انہوں نے ایک نئی جماعت ملت اسلامیہ کے نام سے تشکیل دی، جس کے پلیٹ فارم سے انہوں نے جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی کی حمایت کا اعلان کیا۔مولانا اعظم طارق جہاں سپاہ صحابہ کے کارکنوں میں حد درجہ مقبول تھے، وہیں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد میں ان کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی تھی۔ اس کی بڑی وجہ 1993ء میں جھنگ کے ایک جلسے میں ان کی وہ متنازع تقریر تھی جس میں انہوں نے بارہویں امام مہدیؑ کے بارے میں سخت جملے ادا کیے۔
ان کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق لشکر جھنگوی سے بھی رہا، جو کئی فرقہ وارانہ قتل و غارت کی ذمہ دار تھی، تاہم وہ ہمیشہ اس کی تردید کرتے رہے۔ ان کے خلاف 65 مقدمات درج ہوئے جن میں سے 28 دہشت گردی کے زمرے میں آتے تھے۔ان پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے۔ ایک حملہ تحصیل شاہ پور (ضلع سرگودھا) میں ہوا، جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے اسلام آباد جا رہے تھے۔ اس حملے میں ان پر راکٹ فائر کیا گیا مگر وہ محفوظ رہے۔17 جنوری 1996ء کو لاہور سیشن کورٹ بم دھماکے میں وہ شدید زخمی ہوئے جبکہ ان کے ساتھی ضیاء الرحمٰن فاروقی سمیت درجنوں افراد شہید ہوئے۔4 اکتوبر 2003ء کی صبح وہ اسلام آباد میں داخل ہو رہے تھے کہ موٹروے (M2) پر ایک سفید پجیرو نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔ پجیرو سے تین افراد اترے اور خودکار ہتھیاروں سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ چند منٹ میں دو سو سے زائد گولیاں چلیں، جن میں سے چالیس صرف مولانا اعظم طارق کو لگیں۔ ان کے ساتھ ان کے ساتھی قاری ضیاء الرحمن بھی جاں بحق ہوئے۔ان کی نمازِ جنازہ مولانا عبدالرشید غازیؒ نے پڑھائی۔ ان کے قتل کا الزام ان کے حامیوں نے پرویز مشرف کے سیاسی حمایتیوں پر عائد کیا۔مولانا اعظم طارقؒ پاکستانی سیاست کے ایک متنازع مگر تاریخی کردار تھے۔ ان کی شخصیت میں خطابت کا جادو، نظریاتی سختی اور مذہبی وابستگی تینوں موجود تھیں۔ چاہنے والے انہیں شہیدِ عقیدہ کہتے ہیں جبکہ مخالفین انہیں فرقہ واریت کی علامت سمجھتے ہیں۔لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ وہ اپنے نظریے کے لیے آخری سانس تک ثابت قدم رہے۔*