مفاہمت کا بوجھ اور اقتدار کی ریتلی دیواریں

تحریر: سلمان احمد قریشی

پاکستان کی سیاست ہمیشہ مفاہمت، مصالحت اور وقتی مفادات کی ریت پر تعمیر ہوئی ہے۔ ہر دور میں اقتدار کے ایوانوں کی بنیادیں مضبوط پتھروں پر نہیں بلکہ نرم ریت پر رکھی گئیں، جہاں ہوا کا معمولی جھونکا بھی دیواروں کو ہلا دیتا ہے۔ آج کی اتحادی حکومت بھی اسی مفاہمتی سیاست کی پیداوار ہے۔ ایک ایسا نظام جو بظاہر استحکام کے وعدے کرتا ہے مگر اندر سے کھوکھلا دکھائی دیتا ہے۔ سندھ کے وزیرِ محنت سعید غنی کا حالیہ بیان اسی کمزور عمارت میں پڑتی دراڑوں کا اشارہ ہے۔
سعید غنی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کے ان بیانات کی وضاحت کریں جن میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر “سازش” کے الزامات لگائے گئے۔ جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے تو پنجاب حکومت کی تعریف کی تھی، تنقید نہیں کی۔ انہوں نے صرف وزیراعظم سے سیلاب متاثرین کے لیے امداد کی درخواست کی تھی۔ لیکن تعریف کے جواب میں الزام تراشی ہو رہی ہے، گویا کسی کو بلاوجہ ناراضی کی تلاش ہے۔ سعید غنی کے مطابق یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاق سے ناراض ہو جائے، حالانکہ وفاقی حکومت کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ووٹوں کی اشد ضرورت ہے۔ اگر یہ جماعت حکومت سے علیحدہ ہوئی تو سیاسی عدم استحکام کے ساتھ معاشی بحران بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔
یہ بیان کسی ایک رہنما کی ناراضی نہیں بلکہ پورے اتحادی ڈھانچے کی لرزتی بنیادوں کی خبر دے رہا ہے۔ پاکستان میں مخلوط حکومتوں کا تجربہ نیا نہیں، مگر ہر تجربہ ایک ہی انجام کو پہنچا۔ وقتی مفاہمت، وقتی اقتدار، اور پھر اختلافات کا لاوا پھٹ پڑا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اتحادی تجربات سے بھری پڑی ہے۔ 1956ء کے آئین کے بعد جب سیاسی جماعتوں نے اقتدار کے لیے اتحاد کیے تو مقصد نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ وقتی مفادات کا حصول تھا۔ ایوب خان کے خلاف متحدہ حزبِ اختلاف (COP) سے لے کر بھٹو دور کے پاکستان نیشنل الائنس (PNA) تک، ہر اتحاد اپنے ہدف کے حصول کے بعد ٹوٹ گیا۔
1988ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت بھی اتحادی بنیادوں پر قائم ہوئی، مگر بیس مہینوں میں ہی اختلافات کے بوجھ تلے گر گئی۔ 1993ء میں ایک بار پھر بینظیر نے اقتدار سنبھالا لیکن ن لیگ کے ساتھ سیاسی کشمکش نے حکومت کو قبل از وقت ختم کر دیا۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے سائے میں ہاتھ ملایا، مگر چند ماہ بعد مفادات کے بوجھ تلے وہ مفاہمت بھی دم توڑ گئی۔
یہی منظر 2022ء میں عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے بعد دہرایا گیا، جب ن لیگ، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، اے این پی، بی این پی اور دیگر جماعتیں ایک چھت تلے جمع ہوئیں۔ بظاہر مقصد آئین کی بحالی اور جمہوریت کا استحکام تھا، مگر درپردہ سب کے اپنے اپنے سیاسی مفادات تھے۔
آج کی اتحادی حکومت میں اختلافات کا محور ایک نہیں کئی ہیں۔ فنڈز کی تقسیم، پالیسیوں پر عمل درآمد، صوبائی خودمختاری اور سب سے بڑھ کر مستقبل کے انتخابات سیاسی جماعتوں کے لیے اہم ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما بارہا شکوہ کرتے ہیں کہ وفاق سندھ کے منصوبوں کو نظرانداز کرتا ہے جبکہ پنجاب کی حکومت سندھ پر وسائل کے غیرمنصفانہ استعمال کے الزامات لگاتی ہے۔
پانی کے مسئلے نے اس کشمکش کو مزید گہرا کر دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک بیان میں کہا “میرا پانی، میری مرضی” ۔ جو بظاہر صوبائی خودمختاری کی علامت ہے مگر حقیقت میں وفاقی ہم آہنگی کے اصولوں سے متصادم ہے۔ سعید غنی نے بجا طور پر سوال اٹھایا کہ جب پہلے ہی 39 فیصد پانی کی کمی ہے تو نئی نہریں کہاں سے بھری جائیں گی؟
یہ صرف پانی کا جھگڑا نہیں بلکہ اقتدار کے توازن کی لڑائی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک اور رہنما نے کہا کہ “اگر پنجاب کی وزیراعلیٰ وفاقی پالیسیوں کے خلاف بیان دیں تو یہ خود وفاق کے خلاف سازش ہے۔”
یوں ایک اتحادی جماعت دوسری کو سازش کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے، اور وزیراعظم سے وضاحت مانگ رہی ہے ۔ یہ منظر کسی بھی مستحکم حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
موجودہ حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ “اعتماد کا فقدان” ہے۔ اتحادی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ضرور ہیں، مگر دلوں میں شک کے بیج بوئے جا چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن سمجھتی ہے کہ پیپلز پارٹی اگلے انتخابات سے پہلے خود کو الگ شناخت کے طور پر منوانا چاہتی ہے، تاکہ عوام کے سامنے ن لیگ کی معاشی کارکردگی کا بوجھ ان پر نہ آئے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو رہی ہے کہ وہ حکومت کا حصہ تو ہے، مگر فیصلوں کی اصل ذمہ داری مسلم لیگ ن کی ہے۔
بلاول بھٹو کے بیانات اس پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ بارہا کہتے رہے ہیں“ہم حکومت میں ہیں، لیکن یہ حکومت ہماری نہیں۔”
یہ ایک سیاسی اعلان بھی ہے اور آئندہ انتخابات کی تیاری بھی۔
پاکستان میں مفاہمتی سیاست کی تاریخ ہمیشہ ایک ہی موڑ پر جا کر رکتی ہے۔ جب اقتدار کے مفادات ٹکرا جاتے ہیں تو مفاہمت کا بوجھ اٹھانا ممکن نہیں رہتا۔ موجودہ حکومت بھی اسی موڑ پر کھڑی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف بلاشبہ ایک مفاہمتی مزاج کے سیاستدان ہیں، مگر ان کے لیے دو بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ کے درمیان بڑھتے فاصلے کو کم کرنا آسان نہیں۔
اگر یہ اختلافات بڑھے تو پیپلز پارٹی کے لیے حکومت سے الگ ہونا سیاسی طور پر فائدہ مند اور ن لیگ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ مرکز میں موجود عددی توازن بگڑ جائے گا، سیاسی استحکام متزلزل ہو جائے گا، اور معیشت پر اس کے اثرات فوری ظاہر ہوں گے۔
اتحادی حکومت کے داخلی بحران کے ساتھ ساتھ عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بل، اور بڑھتے ہوئے ٹیکس عوام کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ عوام کے لیے یہ سوال اب زیادہ اہم ہے کہ اقتدار کی کشمکش میں انہیں ریلیف کب ملے گا؟
جب سیاست دان ایک دوسرے پر سازشوں کے الزامات لگا رہے ہیں تو عام آدمی کو صرف اپنے بجلی کے بل میں اضافہ دکھائی دیتا ہے۔
سوال وہی ہے چل کیا رہا ہے۔۔۔؟
کیا یہ حکومت واقعی اپنی آئینی مدت پوری کر پائے گی یا یہ مفاہمتی عمارت بھی ریتلی دیواروں کی طرح ایک روز بیٹھ جائے گی؟
تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ مفاہمت اگر اصولوں پر نہ ہو تو وہ بوجھ بن جاتی ہے، اور اقتدار اگر نظریات کے بجائے مفادات پر قائم ہو تو وہ زیادہ دیر کھڑا نہیں رہتا۔
آج کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اس بوجھ کو سنبھال سکے ورنہ مفاہمت کی یہ ریتلی دیواریں ایک جھونکے کی مار ہیں۔