قومی غیرت کا نشان رشید الحسن اور ہاکی کا وقار

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*پاکستان ہاکی، جو کبھی ہمارے قومی فخر کی پہچان تھی، آج بھی ایسے عظیم سپوتوں کی بدولت سانس لے رہی ہے جنہوں نے اس کھیل کو صرف میدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی زندگیوں کو اس کے لیے وقف کر دیا۔ انہی میں ایک معتبر نام ہے اولمپیئن گولڈ میڈلسٹ رشید الحسن کا، جو نہ صرف پاکستان ہاکی کے درخشاں ستاروں میں شامل ہیں بلکہ کردار، جرات اور حب الوطنی کی مثال بھی ہیں۔حال ہی میں پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق، سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں کو ان کی ڈیلی الاؤنسز ادا کر دی گئی ہیں۔ یہ خبر جہاں کھلاڑیوں کے لیے باعثِ سکون ہے، وہیں ہاکی کے حقیقی سپاہیوں کے لیے ایک جذباتی لمحہ بھی ثابت ہوئی۔ اس فیصلے سے وہ لمحہ ٹل گیا جس نے ہاکی کے چاہنے والوں کے دل دہلا دیے تھے جب رشید الحسن نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کھلاڑیوں کو واجبات نہ ملے تو وہ مجبورا اپنا 1984ء کا اولمپک گولڈ میڈل نیلام کر دیں گے تاکہ اپنے ساتھیوں کا حق ادا کر سکیں۔سوچیے! ایک ایسا کھلاڑی جس نے پاکستان کا نام دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر روشن کیا، اسے اپنے گولڈ میڈل کی بولی لگانے پر مجبور ہونا پڑے یہ صرف ایک شخص کی مجبوری نہیں تھی بلکہ ایک نظام کی بے حسی کا نوحہ تھا۔ مگر شکر ہے کہ یہ لمحہ کبھی حقیقت نہ بن سکا۔ رشید بھائی کا گولڈ میڈل صرف ایک دھات کا ٹکڑا نہیں بلکہ قوم کی عزت اور غیرت کا نشان ہے، جو ہمیشہ ان کے سینے پر جگمگاتا رہے گا۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ طاہر علی شاہ جیسے باہمت اور بے لوث افراد نے بھی اس جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے سوشل میڈیا پر مسلسل آواز اٹھائی، بار بار پاکستان ہاکی فیڈریشن کو متوجہ کیا، اور اس مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ ایسے افراد اس بات کی علامت ہیں کہ ابھی ہاکی کے چاہنے والے زندہ ہیں، اور انہیں اپنی قومی کھیل سے محبت اب بھی بےلوث ہے۔رشید الحسن کا شکریہ ادا کرنا محض الفاظ کا کھیل نہیں یہ ان کے کردار کو سلامِ عقیدت ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اصل اولمپیئن وہ نہیں جو صرف میڈل جیتے، بلکہ وہ ہے جو اپنی قوم اور اپنے ساتھیوں کے لیے کھڑا ہو۔اگر پاکستان ہاکی کو دوبارہ بلندیوں پر لے جانا ہے، تو ہمیں رشید الحسن جیسے لوگوں کے جذبے، غیرت، اور سچائی سے سبق سیکھنا ہوگا۔ ان کا میڈل نہ صرف محفوظ رہا بلکہ ان کا وقار، ان کی محبت، اور ان کا عزم بھی ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔🌿 تعریفی نوٹ:قوم اپنے ہیروز کو سلام پیش کرتی ہے رشید الحسن جیسے اولمپیئن ہمارے فخر، ہماری پہچان اور ہمارے عزم کی علامت ہیں۔ 🇵🇰🏑*