آٹے کی دستیابی اور حکومتِ پنجاب کے اقدامات

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*آٹا ہماری روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایک عام شہری کی زندگی میں روٹی محض کھانے کا حصہ نہیں بلکہ اس کی بقاء کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آٹے کی قیمت میں معمولی سا اضافہ یا قلت پیدا ہوتی ہے تو اس کا اثر براہِ راست ہر گھر پر پڑتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومتِ پنجاب نے عوام کو ریلیف دینے اور آٹے کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔حال ہی میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر ٹوبہ ٹیک سنگھ میڈم شمائلہ بانو سے خصوصی گفتگو کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ حکومتِ پنجاب نے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1810 روپے جبکہ روٹی کی قیمت 13 روپے مقرر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں، فلور ملوں اور دوکانداروں کی مانیٹرنگ کر رہی ہیں تاکہ کسی قسم کا مصنوعی بحران پیدا نہ ہونے پائے۔میڈم شمائلہ بانو نے دوکانداروں کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر کسی نے مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمت وصول کی یا آٹے کی ذخیرہ اندوزی کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ اعلان نہ صرف انتظامی عزم کی علامت ہے بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے ایک مثبت قدم بھی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی شکایت کی صورت میں فوڈ ڈیپارٹمنٹ یا ضلعی کنٹرول روم سے فوری رابطہ کریں تاکہ موقع پر ایکشن لیا جا سکے۔ عوام کا تعاون ہی اس مہم کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اور انتظامیہ دونوں اپنے اپنے کردار کو ذمہ داری سے ادا کریں۔ جہاں حکومت نے آٹے کی فراہمی اور قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، وہیں شہریوں کو بھی فرض شناس بن کر ناجائز منافع خوروں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔اگر اس سلسلے میں عوام اور حکومت کا اشتراک برقرار رہا تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب کوئی بھی شہری آٹے کی قیمت یا فراہمی کے حوالے سے پریشانی کا شکار نہیں ہوگا۔یہی خوشحالی، استحکام اور ذمہ داری کا سفر ہی حقیقی ترقی کا زینہ ہے۔*