انمول عورت
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*دنیا میں خوبصورتی کی تعریف ہر زمانے میں بدلتی رہی ہے۔ کبھی چہرے کے نقش و نگار کو حسن سمجھا گیا، کبھی لباس و انداز کو۔ مگر حقیقت میں عورت کی اصل خوبصورتی ظاہری نہیں، بلکہ باطنی ہوتی ہے۔ انمول عورت وہ ہوتی ہے جس کا حسن دل سے جھلکتا ہے، جس کے کردار کی خوشبو اس کے چہرے کی چمک سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ایسی عورت کو متاثر کرنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ دولت، زیورات، بنگلوں یا مہنگے تحفوں سے نہیں جھکتی۔ اس کا دل خریدنے کے لیے دنیا کی چمک دمک نہیں، بلکہ خلوص، سچائی اور اچھے اخلاق کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ انمول عورت ہوتی ہے جو رشتوں کی قدر جانتی ہے، جو محبت صرف محبت کے بدلے میں کرتی ہے نہ مفاد کے لیے، نہ نمود و نمائش کے لیے۔اسے متاثر کرنے کے لیے آپ کا اخلاق کافی ہے۔ آپ کا رویہ، آپ کی گفتگو، آپ کا سلوک یہی چیزیں اس کے دل میں جگہ بناتی ہیں۔ وہ اس شخص سے متاثر ہوتی ہے جو اسے عزت دیتا ہے، اس کی بات توجہ سے سنتا ہے، اس کے جذبات کی قدر کرتا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ محبت وہی ہوتی ہے جہاں احساسِ تحفظ ہو، احترام ہو اور سمجھ بوجھ ہو۔انمول عورت وہ نہیں جو دولت سے خوش ہو جائے، بلکہ وہ ہے جو ایک چھوٹے سے خیال پر مسکرا دے۔ جب وہ سردی میں بیٹھے اور آپ اپنی جیکٹ یا شال اس کے کندھوں پر ڈال دیں، یہ اس کے لیے ہزاروں لفظوں سے بڑھ کر اظہارِ محبت ہوتا ہے۔ جب وہ خاموش ہو اور آپ نرمی سے پوچھیں “تم ٹھیک ہو؟ میری ضرورت تو نہیں؟” تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جو اس کے دل پر نقش ہو جاتا ہے۔اصل خوبصورتی یہی ہے خیال رکھنے کا، احساس دینے کا، احترام کرنے کا۔ ایسی عورت ہی انمول ہے، کیونکہ وہ ظاہری چمک دمک سے نہیں، بلکہ خلوصِ دل سے جیتی ہے۔دنیا میں حسین چہرے بہت ہیں، مگر انمول عورت وہی ہے جو محبت میں خلوص، رشتوں میں وفا، اور زندگی میں سادگی کو ترجیح دیتی ہے۔ اسے پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا، بلکہ صرف اچھے رویے اور سچے دل سے جیتا جا سکتا ہے۔ایسی عورتیں کم ہیں، مگر جو ہیں وہ واقعی انمول ہیں۔*










