شعبہ صحافت

تحریر ! سید شاکر علی شاہ

صحافی معاشرے میں ٹیچر کا کردار ادا کرتا ہے جیسے سکولوں میں استاد شاگرد کو ادب کی تعلیم دیتے ہیں
ایسے ہی صحافی اچھائی برائی کی نشاندہی کرنے والا ٹیچر ہوتا ہے لیکن آج شعبہ صحافت میں بد کردار لوگ شامل ہو گئے ہیں جن کی گفتگو کا معیار گلی محلے کے اوارہ لڑکوں کی طرح ہے کیونکہ وہ لوگ کسی اچھے قلمکار کے شاگرد نہیں سوشل میڈیا کے پیداوار ہیں جہاں اکثریت جھوٹ اور بدتمیزی لکھنے والوں کی ہے انہی صحافیوں کی وجہ سے اج چوتھا ستون اداروں میں رسوا ہونے جا رہا ہے کیونکہ اداروں نے بد کردار بد زبان لوگ جو ان کے ایجنٹ ہیں صحافی بنا کر ادارے کو بدنام کرنے بھیج دیا ہے پچھلے دنوں پیکا ایکٹ کے خلاف صحافیوں کے حقوق کی لڑائی ہو رہی تھی اور یہ لوگ پولیس افیسروں کے پاس بیٹھ کر چائے پی رہے تھے کسی احتجاج میں نظر نہیں ائے ،
میں نے اس وقت تمام صحافیوں سے بار بار لکھ کر اپیل کی کہ اپنے اپنے اختلافات بھول جاؤ صرف صحافی بن جاؤ ورنہ بات اس سے بھی اگے جائے گی اور سب کی باری ائے گی مگر مفاد پرست اور خوش امدی کسی احتجاج میں شامل نہیں ہوئے اور اج صحافیوں کے خود ساختہ لیڈر بن بیٹھے ہیں

اور اج اس شخص کے کردار کی بات ہو رہی ہے جو صحافیوں کے حقوق کی لڑائی لڑتا ا رہا ہے محترم ارشد انصاری صاحب اس کی وجہ ممبرز کا معیار کے مطابق چناؤ نہ کرنا ہے لاہور پریس کلب صحافیوں کے لیے رول ماڈل ہے یہاں کے ممبرز تو ایسے قلم کار ہونے چاہیے جن کی تنقید کا معیار بھی ایسا ہو ہر الفاظ ادبی دائرے سے چنا گیا ہو لیکن اج بہت دکھ ہوا پڑھ کر تمام معزز کلب ممبرز کو بڑے گھٹیا لفظ سے لکھا گیا جوئے خانے سے پکڑے جانے والے تمام لوگ جواری کہلاتے ہیں اور جب کلب کو کنجرخانہ کہا جائے تو ؟؟؟؟؟؟
لہذا محترم صدر پریس کلب اور عہدے داران و ممبرز گورننگ باڈی اس بات کا نوٹس لیں اور سوشل میڈیا سے ائے ہوئے مہمانوں کو عزت ابرو کے ساتھ سوشل میڈیا کو دوبارہ سونپ دیا جائے
اور کلب اتھارٹی کو چاہیے ممبرشپ کے لیے ایک قانون پاس کریں ڈگری کے علاوہ تمام ممبر شپ ختم کی جائے اور پریس کلب کی ممبرشپ کا گرتا ہوا معیار روکا جائے 4 ہزار کی بجائے 400 بھی اگر ہوں گے ان کی قلم سے لکھے ہوئے الفاظ ہمارے لیے مشعل راہ ہوں گے
میں نے حقائق پر مبنی ارٹیکل لکھ دیا ہے پھر بھی اگر کسی کو اچھا نہ لگے تو میں معذرت چاہتا ہوں